Home » teatimepoetry » Page 7
کتنی دلکش ہے لاپرواہی اس کی
میری ساری محبت، فضول ہو جیسے
جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
آفت کے وقت وہ بھی ، تماشائیوں میں تھا
اس کا علاج ، کوئی مسیحا نہ کر سکا
جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا
کچھ وضع احتیاط سے ، بانوؔ تھے ہم بھی دور
کچھ دوستوں کا ہاتھ بھی رسوائیوں میں تھا
مطلوب ہمیشہ ساکت ہوتا ہے
ہمیشہ طالب ہی اس کے گرد گھومتے ہیں ۔
بڑا ناز تھا عدم ، اُن کی چاہت کا
اب کہاں چھپائیں ، ندامتیں اپنی
ہمارے حصے میں ہمیشہ۔
عذر آئے، جواز آئے، اصول آئے