میں نے سیکھا کہ ہر بشر موت کا مزہ چکھے گا، لیکن زندگی کا مزا صرف کچھ ہی لوگ چکھتے ہیں Main ne seekha ke har bashar maut ka maza chakhay ga, lekin zindagi ka maza sirf kuch hi log chakhte hain
کبھی آپ نے غور کیا ہے؟ کیوں ٹام ہمیشہ ہار جاتا ہے؟ اور جیری ہر بار جیت جاتا ہے؟
اس کا جواب سادہ مگر گہرا ہے کیونکہ ٹام کے لیے جیری کو پکڑنا صرف ایک کھیل ہے—ایک عارضی مشغلہ یا محض بھوک مٹانے کا ذریعہ۔ اگر وہ ہار جائے، تو بھی اُس کی زندگی پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا۔
مگر جیری کے لیے یہ زندگی اور موت کا معاملہ ہوتا ہے۔ اگر وہ ایک لمحے کو بھی غافل ہو جائے، تو اس کی زندگی ختم ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار پوری توجہ، طاقت، عقل اور مہارت کے ساتھ لڑتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پاس ہارنے کا آپشن ہی نہیں۔
اور یہی بات ہماری حقیقی زندگی پر بھی صادق آتی ہے۔
جو لوگ صرف “کوشش” کرتے ہیں، وہ اکثر ہار جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ اپنے مقصد کو زندگی کا سوال بنا لیتے ہیں، وہ آخرکار کامیاب ہو جاتے ہیں۔
جب جیتنا صرف خواہش نہیں بلکہ ضرورت بن جائے، تو انسان وہ کر جاتا ہے جو ناممکن لگتا ہے۔
یاد رکھیں: جیتنے کے لیے طاقتور ہونا ضروری نہیں، مقصد کا واضح اور ارادہ مضبوط ہونا ضروری ہے۔
ایک واحد پرندہ جو شاہین کے راستے کی رکاوٹ بننے کی کوشش کرتا ہے وہ کوا ہے۔ اس کی گردن پر چونچ مارتا ہے مگر شاہین جواب نہیں دیتا اور نہ ہی کوے سے لڑتا ہے۔ شاہین کبھی کوے پر اپنا وقت اور توانائی ضائع نہیں کرتا بلکہ آسانی سے اپنے پروں کو کھولتا ہے اور آسمان میں اونچا اڑنے لگتا ہے۔ اوپر کی اڑان سے کوے کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے گر جاتا ہے۔ لہذا زندگی میں کبھی بھی بیوقوف لوگوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے شاہین بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خود کو بلند کریں گے تو کوے تو اپنے آپ نیچے گر جائیں گے۔
Aik waahid parindah jo shaheen kay raastay ki rukaawat bannay ki koshish karta hai woh kawaa hai. uss ki gardan par choonch maarta hai magar shaheen jawaab nahi deta aur nah hi kaway se larta hai. shaheen kabhi kaway par apna waqt aur tawanai zaya nahi karta balkay aasaani se apnay paron ko kholta hai aur aasman mein ooncha urnay lagta hai. oopar ki uraan se kaway ko saans lainay mein dushwari ka saamna karna parta hai aur phir oxygen ki kami ki wajah se gir jata hai. lehaza zindagi mein kabhi bhi baywaqoof logon kay saath apna waqt zaya karnay kay bajaye shaheen bannay ki koshish karni chahiye. khud ko buland karen ge to kaway to apnay aap neechay gir jayen ge.
خبردار فارغ مت بیٹھو اور راحت کا عادی مت بنو کہ کمزوری اور خوف کے باعث میدان کسی اور کے لیے چھوڑ دو خبردار فضول چیزوں میں نہ الجھو جبکہ تمہیں اس وقت خود کو نکھارنے اور مضبوط کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ایسے درخت کی مانند جمے رہو جو کبھی نہیں مرتا اور ہوشیار رہو کہ خود کو کھو نہ دو تم پر سخت دن آئیں گے تمہاری کچھ سوچیں قید ہو جائیں گی تمہارے اندر لگایا ہوا کچھ پودا مرجھا جائے گا مگر اگر تم کھڑے رہے تو وہ پھر سے پھوٹے گا یہ وقت مایوسی کا نہیں نہ ہی کمزوری کا نہ شکست تسلیم کرنے کا نہ فضولیات میں وقت ضائع کرنے کا یہ وقت ہے خود کو تیار کرنے کا خود کو طاقتور بنانے کا جتنا ہو سکے مضبوط بنو
اگر تمہارے ہاتھ میں بندوق ہو، اور میرے ہاتھ میں بھی بندوق ہو تو ہم قانون پر بات کر سکتے ہیں۔
اگر تمہارے ہاتھ میں چاقو ہو، اور میرے ہاتھ میں بھی چاقو ہو تو ہم اصول و ضوابط پر گفتگو کر سکتے ہیں۔
اگر ہم دونوں خالی ہاتھ ہوں تو ہم تہذیب اور اخلاقیات کی بات کر سکتے ہیں۔
لیکن… اگر تمہارے پاس بندوق ہو، اور میرے پاس صرف چاقو ہو تو سچائی تمہارے ہاتھ میں ہوگی۔
اور اگر تمہارے پاس بندوق ہو، اور میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو تو وہ بندوق صرف ایک ہتھیار نہیں، بلکہ میری پوری زندگی ہے، جو تمہارے رحم و کرم پر ہے۔
طاقت اور مساوات
قانون، اصول، اخلاق اور تہذیب صرف اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب سب برابر ہوں۔ مگر اس دنیا کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب دولت کی بات آتی ہے، تو سچ خاموش ہو جاتا ہے۔ اور جب طاقت کی بات آتی ہے، تو دولت پیچھے ہٹ کر موقع کے انتظار میں رہتی ہے۔
وہی لوگ جو قانون بناتے ہیں عموماً وہی اسے توڑتے بھی ہیں کیونکہ یہ قوانین صرف کمزوروں کے لیے زنجیریں ہیں، اور طاقتوروں کے لیے ہتھیار۔
Tum jaanti ho Sofia is zindagi mein mujhe sab se zyada kis cheez se dar lagta hai تم جانتی ہو صوفیا اس زندگی میں مجھے سب سے زیادہ کس چیز سے ڈر لگتا ہے
Na beemari se na tanhaayi se na hi khud maut se نہ بیماری سے نہ تنہائی سے نہ ہی خود موت سے
Balkay is khayaal se ke poori zindagi yun hi guzar jaye بلکہ اس خیال سے کہ پوری زندگی یوں ہی گزر جائے
Baghair kisi haqeeqi ehsas ke baghair is baat ka idraak kiye ke main waqai zinda tha بغیر کسی حقیقی احساس کے بغیر اس بات کا ادراک کیے کہ میں واقعی زندہ تھا
Kisi din jaag kar yeh sochna ke maine kabhi dil se nahi hansa کسی دن جاگ کر یہ سوچنا کہ میں نے کبھی دل سے نہیں ہنسا
Deewana waar mohabbat nahi ki dard se cheekha nahi roya nahi دیوانہ وار محبت نہیں کی درد سے چیخا نہیں رویا نہیں
Ke zindagi bas ek yaksaa silsila rahi کہ زندگی بس ایک یکساں سلسلہ رہی
Jis mein na koi hairat thi na koi jazba na koi shiddat جس میں نہ کوئی حیرت تھی نہ کوئی جذبہ نہ کوئی شدت
Ke meri ragoon mein zindagi hi nahi thi کہ میری رگوں میں زندگی ہی نہیں تھی
Kya yeh asal maut nahi کیا یہ اصل موت نہیں
The Nun – Anton Chekhov se iqtibaas دی نون – انتون چیخوف سے اقتباس
Tum jaanti ho Sofia is zindagi mein mujhe sab se zyada