tanqeed kar k mere hunar ki udhan par
tasleem kar rha tha wo mere muaqam ko
تنقید کر کے میرے ہنر کی اُڑان پر ۔
تسلیم کر رہا تھا وہ میرے مقام کو
طاقت، قانون اور حقیقت
اگر تمہارے ہاتھ میں بندوق ہو، اور میرے ہاتھ میں بھی بندوق ہو
تو ہم قانون پر بات کر سکتے ہیں۔
اگر تمہارے ہاتھ میں چاقو ہو، اور میرے ہاتھ میں بھی چاقو ہو
تو ہم اصول و ضوابط پر گفتگو کر سکتے ہیں۔
اگر ہم دونوں خالی ہاتھ ہوں
تو ہم تہذیب اور اخلاقیات کی بات کر سکتے ہیں۔
لیکن… اگر تمہارے پاس بندوق ہو، اور میرے پاس صرف چاقو ہو
تو سچائی تمہارے ہاتھ میں ہوگی۔
اور اگر تمہارے پاس بندوق ہو، اور میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہ ہو
تو وہ بندوق صرف ایک ہتھیار نہیں، بلکہ میری پوری زندگی ہے، جو تمہارے رحم و کرم پر ہے۔
طاقت اور مساوات
قانون، اصول، اخلاق اور تہذیب صرف اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب سب برابر ہوں۔
مگر اس دنیا کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب دولت کی بات آتی ہے، تو سچ خاموش ہو جاتا ہے۔
اور جب طاقت کی بات آتی ہے، تو دولت پیچھے ہٹ کر موقع کے انتظار میں رہتی ہے۔
وہی لوگ جو قانون بناتے ہیں
عموماً وہی اسے توڑتے بھی ہیں
کیونکہ یہ قوانین صرف کمزوروں کے لیے زنجیریں ہیں، اور طاقتوروں کے لیے ہتھیار۔
-unknown
آپ لوگ ہمیشہ ہمیں مینرز، اٹھنے بیٹھنے کے آداب، اور تمیز سکھانے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ہمیں یہ سب آتا ہے، یہ ہمارا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہماری جنریشن کا مسئلہ تمیز یا تہذیب کی کمی نہیں ہے، ہمارے مسائل بالکل الگ اور بہت پیچیدہ ہیں۔
ہمیں یہ نہ سکھائیں کہ بڑوں کے سامنے کیسے بولنا ہے، ہمیں یہ سکھائیں کہ اس بدلی ہوئی، تیز رفتار اور مادی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر کیسے چلنا ہے؟ ہمارے سامنے چیلنجز الگ ہیں۔ ہمیں یہ سکھائیں کہ رشتوں کو کیسے قائم رکھنا ہے، رشتوں کو برقرار کیسے رکھنا ہے!
آپ کے دور میں رشتے نبھانا آسان تھا کیونکہ دنیا سادہ تھی۔ آج کل ہمارے دور میں ہر روز رشتے ٹوٹ رہے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہے کہ اس جدید دور کے دباؤ اور الجھنوں کے باوجود اپنے مخلص رشتوں کو ٹوٹنے سے کیسے بچانا ہے۔ ہمیں مینرز سے زیادہ رشتوں کو سنبھالنے اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں زندہ رہنے کی رہنمائی چاہیے۔
Aap log hamesha hume manners, uthne baithne ke aadaab, aur tameez sikhane ke peeche pare rehte hain. Hume yeh sab aata hai, yeh humara masla hi nahi hai. Humari generation ka masla tameez ya tehzeeb ki kami nahi hai, humare masle bilkul alag aur bohat complex hain.”
“Hume yeh na sikhaen k baron k samne kese bolna hai, hume yeh sikhaen k is badli hui, tez-raftaar aur materialistic dunya k sath qadam mila kar kese chalna hai? Humare samne challenges alag hain. Hume yeh sikhaen k relationships ko kese qaim rakhna hai, rishthon ko ‘Intact’ kese rakhna hai!
Aap k dour mein rishte nibhana aasan tha kyun k dunya saada thi. Aaj kal humare dour mein har roz rishte toot rahe hain. Log aik dosre se door ho rahe hain. Hume yeh seekhna hai k is jadeed dour k pressures aur uljhanon k bawajood apne mukhlis rishton ko tootne se kese bachana hai. Hume