Skip to content

Hobbies Posts

Mein pat jhar ka aadi hoon..

Mein pat jhar ka aadi hoon,baharen na pasand mujh ko,

Koi jo bhoolna chahye, yaad aana chorh deta hoon…

میں پت جڑھ کا عادی ہوں بہاریں نہ پسند مجھ کو

کوئی جو بھولنا چاہے ، یاد آنا چھوڑ دیتا ہوں

Zindagi bhar key imtehan…

Zindagi bhar key imtehan key bad,

Wo natijey mein kisi our ka nikla…

زندگی بھر کے امتحان کے بعد

وہ نتیجے میں کسی اور کا نکلا

GARME-E-HASRAT NA KAM SE JAL JAATE HAIN

گرمیٔ حسرتِ نا کام سے جل جاتے ہیںہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیںشمع جس آگ میں جَلتی ہے نمائش کیلئےہم اُسی آگ میں، گُمنام سے جل جاتے ہیںبَچ نِکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہمشعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیںخود نمائی تو نہِیں شیوۂ اربابِ وفاجن کو جَلنا ہو ، وُہ آرام سے جل جاتے ہیںربطِ باہم پہ ہمیں کَیا نہ کہَیں گے دُشمنآشنا جب تیرے پیغام سے جل جاتے ہیںجب بھی آتا ہے مِرا نام ، تِرے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ، مِرے نام سے جل جاتے ہیں


TUMSE PEHLE WO JO AK SHAKHS YAHAN TAKHT NASHEEN THA

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھاکوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤوہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھاآج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنےکوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھااب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کواک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھاچھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولےتھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا


KAYA ISHQ THA JO BAAIS-E-RUSWAI BAN GAYA

کیا عشق تھا جو باعثِ رسوائی بن گیایارو تمام شہر تماشائی بن گیابن مانگے مل گئے مری آنکھوں کو رت جگےمیں جب سے ایک چاند کا شیدائی بن گیادیکھا جو اس کا دستِ حنائی قریب سےاحساس گونجتی ہوئی شہنائی بن گیابرہم ہوا تھا میری کسی بات پر کوئیوہ حادثہ ہی وجہِ شناسائی بن گیاپایا نہ جب کسی میں بھی آوارگی کا شوقصحرا سمٹ کے گوشہ تنہائی بن گیاتھا بے قرار وہ مرے آنے سے پیشتردیکھا مجھے تو پیکرِ دانائی بن گیاکرتا رہا جو روز مجھے اس سے بدگماںوہ شخص بھی اب اس کا تمنائی بن گیاوہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔپھر کیا ہوا اگر کوئی ہرجائی بن گیا


Kaya ishq Tha Jo Baais-e-Ruswai ban Gaya

Yaaro Tamam Shehar Tamashai Ban Gaya

Bin Mangay Mil Gaye Meri Aankhoun Ko Ratt Jagay

Main jab Say Aik Chaand Ka Shaidai Ban Gaya

Daikha Jo Uska Dast-e-Hinaai Qareeb Say

Ahsaas Goonjti Hui Shehnai Ban Gaya

Barham Hua Tha Meri Kisi Baat per Koi

Woh Haadsa Hi Wajh-e-Shanasai Ban Gaya

Paaya nah Jab Kisi Main Bhi Awaargi Ka Shauq

Sehra Simat K Gosha-e-Tanhai Ban Gaya

Tah Bay Qaraar Woh Mere Aanay Say Paishtar

Daikha Mujhay To Paikr-e-Danai Ban Gaya

Karta Raha Jo Roz Mujhay Us Say Bad’gumaan

Woh Shakhs Bhi Ab Uska Tamannai Ban Gaya

Woh Teri Bhi To Pehli Muhabbat Nah Thi Qateel

Phir Kaya Hua Agar Koi Harjaai Ban Gaya


DIL MEIN AB YUN TERE BHOOLEY HUYEN GHUM ATEY HAIN

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشنمیری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیںرقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیںکچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغوہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیںاور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہودل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں


DADHKANO KI ULJHANO KO SANWARA THA OR BUS

ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ ﺍﻟﮭﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﻮﺍﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﮐﺎﻏﺬ ﭘﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺍُﺗﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﺑﺲ ﺍِﺗﻨﺎ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﻭﺍﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺗﮭﯽﺍِﺗﻨﺎ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺗﮭﺎﮨﻢ ﮐﻮ ﻓﻘﻂ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ بس


KUCH TO HAWA BHI SARD THI KUCH THA TERA KHAYAL BHI

‏کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھیدل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھیمیری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھیاس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھیگاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھیاس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھیشام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی