Koi shikwa nahin tum sey,agar ho bhi to kya hasil,
Wahi raasmi saa jumla,meeri majbooriyan samjho…
کوئی شکوہ نہیں تم سے ، اگر ہو بھی تو کیا حاصل
وہی رسمی سا ایک جملہ ، میری مجبوریاں سمجھو

Laga kar aagh shehr ko ye badshah ney kaha,
Otha hai dil mein tamashey ka aaj shoq bhut,
Jhuka key sar ko sabhi shah parsat bol othey,
Huzor ka shoq salamat rahey,shehr our bhi bhut
لگا کر آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا
اٹھا ہے دل میں تماشے کا آج شوق بہت
جھکا کے سر کو سبھی شاہ پرست بول اٹھے
حضور کا شوق سلامت رہے ،شہر اور بہت
یُوں بھی خزاں کا رُوپ سُہانا لگا مُجھے
ہر پُھول فصلِ گُل میں پُرانا لگا مُجھے
مَیں کیا کسی پہ سنگ اُٹھانے کی سوچتا
اپنا ہی جسم آئینہ خانہ لگا مُجھے
اے دوست ! جُھوٹ عام تھا دُنیا میں اِس قدر
تو نے بھی سچ کہا ــــــ تو فسانہ لگا مُجھے
اب اُس کو کھو رہا ہُوں بڑے اشتیاق سے
وُہ جس کو ڈھونڈنے میں زمانہ لگا مُجھے
محسنؔ ہجومِ یاس میں مرنے کا شوق بھی
جِینے کا اِک حَسین بہانہ لگا مُجھے
محسنؔ نقوی