Mein pat jhar ka aadi hoon,baharen na pasand mujh ko,
Koi jo bhoolna chahye, yaad aana chorh deta hoon…
میں پت جڑھ کا عادی ہوں بہاریں نہ پسند مجھ کو
کوئی جو بھولنا چاہے ، یاد آنا چھوڑ دیتا ہوں
گرمیٔ حسرتِ نا کام سے جل جاتے ہیںہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیںشمع جس آگ میں جَلتی ہے نمائش کیلئےہم اُسی آگ میں، گُمنام سے جل جاتے ہیںبَچ نِکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہمشعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیںخود نمائی تو نہِیں شیوۂ اربابِ وفاجن کو جَلنا ہو ، وُہ آرام سے جل جاتے ہیںربطِ باہم پہ ہمیں کَیا نہ کہَیں گے دُشمنآشنا جب تیرے پیغام سے جل جاتے ہیںجب بھی آتا ہے مِرا نام ، تِرے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ، مِرے نام سے جل جاتے ہیں
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھاکوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤوہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھاآج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنےکوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھااب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کواک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھاچھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولےتھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا
کیا عشق تھا جو باعثِ رسوائی بن گیایارو تمام شہر تماشائی بن گیابن مانگے مل گئے مری آنکھوں کو رت جگےمیں جب سے ایک چاند کا شیدائی بن گیادیکھا جو اس کا دستِ حنائی قریب سےاحساس گونجتی ہوئی شہنائی بن گیابرہم ہوا تھا میری کسی بات پر کوئیوہ حادثہ ہی وجہِ شناسائی بن گیاپایا نہ جب کسی میں بھی آوارگی کا شوقصحرا سمٹ کے گوشہ تنہائی بن گیاتھا بے قرار وہ مرے آنے سے پیشتردیکھا مجھے تو پیکرِ دانائی بن گیاکرتا رہا جو روز مجھے اس سے بدگماںوہ شخص بھی اب اس کا تمنائی بن گیاوہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔپھر کیا ہوا اگر کوئی ہرجائی بن گیا
Kaya ishq Tha Jo Baais-e-Ruswai ban Gaya
Yaaro Tamam Shehar Tamashai Ban Gaya
Bin Mangay Mil Gaye Meri Aankhoun Ko Ratt Jagay
Main jab Say Aik Chaand Ka Shaidai Ban Gaya
Daikha Jo Uska Dast-e-Hinaai Qareeb Say
Ahsaas Goonjti Hui Shehnai Ban Gaya
Barham Hua Tha Meri Kisi Baat per Koi
Woh Haadsa Hi Wajh-e-Shanasai Ban Gaya
Paaya nah Jab Kisi Main Bhi Awaargi Ka Shauq
Sehra Simat K Gosha-e-Tanhai Ban Gaya
Tah Bay Qaraar Woh Mere Aanay Say Paishtar
Daikha Mujhay To Paikr-e-Danai Ban Gaya
Karta Raha Jo Roz Mujhay Us Say Bad’gumaan
Woh Shakhs Bhi Ab Uska Tamannai Ban Gaya
Woh Teri Bhi To Pehli Muhabbat Nah Thi Qateel
Phir Kaya Hua Agar Koi Harjaai Ban Gaya
دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشنمیری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیںرقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیںکچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغوہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیںاور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہودل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھیدل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھیمیری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھیاس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھیگاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھیاس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھیشام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی