Skip to content

Hobbies Posts

KAYA ISHQ THA JO BAAIS-E-RUSWAI BAN GAYA

کیا عشق تھا جو باعثِ رسوائی بن گیایارو تمام شہر تماشائی بن گیابن مانگے مل گئے مری آنکھوں کو رت جگےمیں جب سے ایک چاند کا شیدائی بن گیادیکھا جو اس کا دستِ حنائی قریب سےاحساس گونجتی ہوئی شہنائی بن گیابرہم ہوا تھا میری کسی بات پر کوئیوہ حادثہ ہی وجہِ شناسائی بن گیاپایا نہ جب کسی میں بھی آوارگی کا شوقصحرا سمٹ کے گوشہ تنہائی بن گیاتھا بے قرار وہ مرے آنے سے پیشتردیکھا مجھے تو پیکرِ دانائی بن گیاکرتا رہا جو روز مجھے اس سے بدگماںوہ شخص بھی اب اس کا تمنائی بن گیاوہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔپھر کیا ہوا اگر کوئی ہرجائی بن گیا


Kaya ishq Tha Jo Baais-e-Ruswai ban Gaya

Yaaro Tamam Shehar Tamashai Ban Gaya

Bin Mangay Mil Gaye Meri Aankhoun Ko Ratt Jagay

Main jab Say Aik Chaand Ka Shaidai Ban Gaya

Daikha Jo Uska Dast-e-Hinaai Qareeb Say

Ahsaas Goonjti Hui Shehnai Ban Gaya

Barham Hua Tha Meri Kisi Baat per Koi

Woh Haadsa Hi Wajh-e-Shanasai Ban Gaya

Paaya nah Jab Kisi Main Bhi Awaargi Ka Shauq

Sehra Simat K Gosha-e-Tanhai Ban Gaya

Tah Bay Qaraar Woh Mere Aanay Say Paishtar

Daikha Mujhay To Paikr-e-Danai Ban Gaya

Karta Raha Jo Roz Mujhay Us Say Bad’gumaan

Woh Shakhs Bhi Ab Uska Tamannai Ban Gaya

Woh Teri Bhi To Pehli Muhabbat Nah Thi Qateel

Phir Kaya Hua Agar Koi Harjaai Ban Gaya


DIL MEIN AB YUN TERE BHOOLEY HUYEN GHUM ATEY HAIN

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشنمیری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیںرقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیںکچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغوہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیںاور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہودل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں


DADHKANO KI ULJHANO KO SANWARA THA OR BUS

ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ ﺍﻟﮭﺠﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻨﻮﺍﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﮐﺎﻏﺬ ﭘﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺍُﺗﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﺑﺲ ﺍِﺗﻨﺎ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﻭﺍﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺗﮭﯽﺍِﺗﻨﺎ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺗﮭﺎﮨﻢ ﮐﻮ ﻓﻘﻂ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺲﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺎﻣﺤﺴﻦ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ بس


KUCH TO HAWA BHI SARD THI KUCH THA TERA KHAYAL BHI

‏کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھیدل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھیمیری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھیاس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھیگاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھیاس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھیشام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی


YAAR BHI RAAH KI DEWAR SAMJHTE HAIN MUJHE

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھےمیں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھےجڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میںدور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھےکیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائےآپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھےنیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہےاور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھےمیں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوںاور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھےمیں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوںدیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھےوہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیںیہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھےمیں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوںاور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھےروشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میںہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھےجرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والااور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھےلاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے


APNI TASWEER KO RAKH KAR TERI TASWEER KE SAATH

اپنی تصویر کو رکھ کر تیری تصویر کے ساتھمیں نے یہ عمر گزاری بڑی تدبیر کے ساتھہو گیا دفن یہ قصہ بھی جہانگیر کے ساتھاب کہاں عدل کا رشتہ رہا زنجیر کے ساتھجس کو میں اپنا بناتا ہوں ، بچھڑ جاتا ہےمیری بنتی ہی نہیں ، کاتب تقدیر کے ساتھ


KEHTA HOON WAHI BATSAMJHTA HOON JESE HAQ

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقنے آبلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزنداپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی نا خوشمیں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قندمشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوندہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموشمیں بندہ مومن ہوں، نہیں دانہ اسپندپر سوز و نظر باز و نکوبین و کم آزارآزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسندہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرمکیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خندچپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالکرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند


ZINDAGI PHOOL HAI,KHUSHBOO HAI,MAGAR YAAD RAHE

زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہےزندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہےچال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصولبُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہےایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔناُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے


Khata’ein ho hi jaati hain

Khata’ein ho hi jaati hain, azaaley bhi to mumkin hain,

Jesey mujh sey shikayt ho, usey kehna miley mujh sey…


خطائیں ہو ہی جاتی ہیں ، ازالے بھی تو ممکن ہیں

جیسے مجھ سے شکایت ہو ، اسے کہنا ملے مجھ سے


Khata'ein ho hi jaati hain, azaley bhi to mumkin hain...