Home » teatimepoetry » Page 6
Ye soch kar key wo kharki se jhank le shayad,
Gali mein khelte bache lara diye mein ne…
یہ سوچ کر کہ وہ کھڑکی سے جھانک لے شاید
گلی میں کھیلتے بچے لڑا دئیے میں نے
اب کوئی مجھ کو دلائے نہ محبت کا یقین
جو مجھ کو بھول نہ سکتا تھا وہی بھول گیا
اَب ہم بِھی کُچھ اِظہارِ تَمنّا نَہ کریں گے
وُہ رُوٹھ گئے ہیں تو ہَمارا بِھی خُدا ھَے
تُو اگر ! رتّی برَابَر بھی مُسیّر ہُو مُجھے
میں تُجھے ! تیری ، تَوَقُّع سے زیَادہ چاہُوں
کتنی دلکش ہے لاپرواہی اس کی
میری ساری محبت، فضول ہو جیسے
جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
آفت کے وقت وہ بھی ، تماشائیوں میں تھا
اس کا علاج ، کوئی مسیحا نہ کر سکا
جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا
کچھ وضع احتیاط سے ، بانوؔ تھے ہم بھی دور
کچھ دوستوں کا ہاتھ بھی رسوائیوں میں تھا
مطلوب ہمیشہ ساکت ہوتا ہے
ہمیشہ طالب ہی اس کے گرد گھومتے ہیں ۔
بڑا ناز تھا عدم ، اُن کی چاہت کا
اب کہاں چھپائیں ، ندامتیں اپنی
ہمارے حصے میں ہمیشہ۔
عذر آئے، جواز آئے، اصول آئے
خود بھی کچھ کم نہیں میں اپنی تباہی کے لیے
دوستوں سے مجھے امداد بھی آ جاتی ہے
رونا ہوتا ہے کسی اور حوالے سے مجھے
اور ایسے میں تری یاد بھی آ جاتی ہے