DOOR HAD-E-NAZAR SE AGEY KAHIN
دور حدِ نظر سے آگے کہیںزندگی اب بھی مسکراتی ہےاب بھی سورج کی ہے وہی عادتگھر کے آنگن کو وہ جگاتا ہےمرمریں شوخ سی حسیں کرنیںچہرے سب چوم کر اٹھاتی…
دور حدِ نظر سے آگے کہیںزندگی اب بھی مسکراتی ہےاب بھی سورج کی ہے وہی عادتگھر کے آنگن کو وہ جگاتا ہےمرمریں شوخ سی حسیں کرنیںچہرے سب چوم کر اٹھاتی…
مرے حصے میں کم کم آ رہا ہےکہاں تو یار بٹتا جا رہا ہےمیسر چودھویں کا چاند بھی ہےاماوس کا مزا بھی آ رہا ہےہمیں اس پھول سے یہ مسئلہ…
آزمانے کی چیز تھا ہی نہیںدل لگانے کی چیز تھا ہی نہیںکاش بر وقت ہم سمجھ پاتےتو گنوانے کی چیز تھا ہی نہیںہو کے ناراض تجھ سے یہ جانامیں منانے…
لگا کے کاندھے سے ہم کو رلانے والا نہیںجو کہہ گیا ہے کہ آئے گا آنے والا نہیںگزارا کرنا پڑے گا ہمارے دل میں تمہیںیہاں جو پہلے سے رہتا ہے…
بہاریں گم ہیں ، مسلسل خزاں کا موسم ہےکسی کے بس میں بھلا کب یہاں کا موسم ہےوہ اور لوگ ہیں موسم بدلتے ہیں جن کےیہاں تو مستقل اشکِ رواں…
مانگے بنا ہمیں یہ رعایت بھی ہو گئیرونا چھپاتے، ہنسنے کی عادت بھی ہو گئیویسے تو اس سے پہلے بھی خانہ خراب تھاپھر یوں ہؤا کہ ہم کو محبت بھی…
نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت…
خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں…
نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے…
رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد…