Skip to content

Tag: ATBAFABRAKPOETRY

NA JEENEY KI SAHULAT HAI NA MARNEY KI IJAZAT HAI

نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے


KHAWAB DIKHLA KEY NIKAL JAATEY HAIN TABEERON SEY

خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے


NA JAANE KITNEY TUKRON MEIN BATA HUN

نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے نہیں بنتی ہے میریخطا میری ہے میں کیوں سوچتا ہوںمٹانے کو مجھے سب مر رہے ہیںسو یہ تو طے ہؤا سب سے بڑا ہوںتمہارے مشوروں سے لگ رہا ہےمیں دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوںیہی اک حل سمجھ آیا تھا مجھ کوخفا تجھ سے تھا خود سے لڑ پڑا ہوںکوئی آئے بٹائے ہاتھ میرامیں اپنے بوجھ سے تھکنے لگا ہوںمقابل زیر کر بیٹھا تو دیکھااب اپنے سامنے میں خود کھڑا ہوں


REHTA HAI SATH SATH WO JANEY KEY BAAD BHI

رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد بھیکر ہجر میں شمار اسے وصل میں نہ لکھآیا نہ اب کی بار وہ آنے کے بعد بھیمجھ سے زیادہ حافظہ ہے مبتلا مراپڑھتا ہے تیرے خط یہ جلانے کے بعد بھیاب پیرِ تسمہ پا سے نہیں کم یہ زندگیجو بچ گئی ہے تجھ پہ لٹانے کے بعد بھییوں کارِ عشق فرق ہے کارِ جہان سےبڑھتا ہے بوجھ اور گھٹانے کے بعد بھیتقدیر سے انہیں بھی گلہ ہے، عجیب ہےملتے نہیں جو لوگ ملانے کے بعد بھیشاید رواج ہی نہیں ابرک یہاں رہارسوا ہوں کیوں وگرنہ نبھانے کے بعد بھیایسی سیاہ رات سے ہے واسطہ پڑاروشن ہؤا دیا نہ جلانے کے بعد بھیاکتا گیا ہے اک ہی مشقت سے دل مرالگتا نہیں ہے اب یہ لگانے کے بعد بھی


SAR E BAZAAR SAJATEY HO TO KYUN LIKHTEY HO

سرِ بازار سجاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوگر قلم بیچ کے کھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوجھوٹ کے پاؤں بناتے ہو تو کیوں لکھتے ہوآنکھ دیکھا نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہووقت کی دھونس میں آتے ہو تو کیوں لکھتے ہوشاہ کے ناز اٹھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوراہ سیدھی نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخضر ، رہزن کو بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخونِ ناحق جو چھپاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوظلم انصاف بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبات بے وجہ بڑھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہودیے نفرت کے جلاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخود کو لفظوں میں نچاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبس خریدار رجھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہو


BASA TO LETEY NAYA DIL MEIN HUM MAKEEN LEKIN

بسا تو لیتے نیا دل میں ہم مکیں لیکنملا نہ آپ سے بڑھ کر کوئی حسیں لیکنکسی کے بعد بظاہر تو کچھ نہیں بدلاہمارے پاؤں تلے اب نہیں زمیں لیکنجہانِ عشق سے باہر بھی ایک دنیا ہےدلایا دل کو بہت ہم نے یہ یقیں ، لیکنیقیں مجھے ہے مرے ساتھ سانپ کوئی نہیںہر ایک ہاتھ کی ​ہوتی ہے آستیں لیکنہزار جام مچلتے رہے ہمارے لئےہماری پیاس نہ چھلکی کبھی کہیں لیکنسبھی فریب تھا لیکن وہ آخری جملہکبھی ملیں گے دوبارہ یہیں کہیں لیکنیہ اور بات خوشی ساتھ ساتھ ہے ابرکہمارے بیچ کوئی رابطہ نہیں لیکن


ZINDAGI KI CHAHAT MEIN ZINDAGI GANWAI HAI

زندگی کی چاہت میں زندگی گنوائی ہے
عارضی محبت تھی مستقل نبھائی ہے
سوکھ کر ہرے پتے شاخ سے گریں گے پھر
ڈوبتا ہے دل میرا جب بہار آئی ہے
مختصر کہانی کچھ یوں ہے رائیگانی کی
بڑھ گئے اندھیرے کچھ، شمع جب جلائی ہے
قید میں رہائی کے خواب دیکھنے والا
اب رہا ہؤا ہے تو قید یاد آئی ہے
خاک پھر بھلا بنتی میری تیری دنیا سے
اک طرف خدا تو ہے، اک طرف خدائی ہے
مجھ کو بھی ملا دینا ، تم کو گر وہ مل جائے
خوش ہے زندگی جس سے ، جس کو راس آئی ہے
جلد باز کہتے ہیں راستے ہمیں ابرک
منزلوں کو شکوہ ہے دیر کیوں لگائی ہے


ZARD HOTEY HUYE MOSAM KI NAZAR JANTA HOON

زرد ہوتے ہوئے موسم کی نظر جانتا ہوں
چھوڑ جائیں گے پرندے بھی شجر، جانتا ہوں
تو سمجھتا ہے مرا ظرف ، مری نادانی
چپ مروت میں ہوں ہر بات مگر جانتا ہوں
کسی منزل کسی تعبیر کی امید نہیں
خواب تیرا ہے فقط زادِ سفر ، جانتا ہوں
وہ بھی دستک پہ مری کان نہیں دھرتا ہے
میں بھی دنیا میں فقط ایک ہی در جانتا ہوں
ارے قاصد یونہی رنجیدہ پریشان نہ ہو
تو جو لایا ہے خبر ، میں وہ خبر جانتا ہوں
لوٹ آنے پہ ترے جشن ہو برپا کیوں کر
پھر بدل جائے گی کل تیری نظر جانتا ہوں
سر جھکا کر جسے دستار ملے، اس پہ ہے تف
جرم انکار ہو جس کا ، اسے سر جانتا ہوں
میں بھی ہنستا تھا کبھی مجنوں کے افسانوں پر
آج مجنوں کی طرح دشت کو گھر جانتا ہوں


HUM PAR NAHIN AB UNKI NAZAR DEKH RAHEY HAIN

ہم پر نہیں اب ان کی نظر دیکھ رہے ہیں
دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہے ہیں
تھے گھر میں تو بیزار تھے گھر بار سے اپنے
راہوں میں نکل آئے تو گھر دیکھ رہے ہیں
ہم پیروں کے چھالوں سے چراتے ہوئے نظریں
ہاتھوں کی لکیروں میں سفر دیکھ رہے ہیں
بھرتے ہیں جہاں زخم تو لے آتی ہے تازہ
ہم چارہ گری تیرے ہنر دیکھ رہے ہیں
سمجھے تھے محبت میں کہ دستار سجے گی
کر بیٹھے تو کٹتے ہوئے سر دیکھ رہے ہیں
دنیا نے سبق اتنے سکھانے ہیں کہ اب ہم
الفاظ نہیں لہجہ ، نظر دیکھ رہے ہیں
اپنوں کی عطا دھوپ میں جھلسائے ہوئے ہم
اغیار کے آنگن میں شجر دیکھ رہے ہیں
لے دے کے جہاں میں فقط آئینے بچے ہیں
ہم جیسوں کو جو بارِ دگر دیکھ رہے ہیں
دستک کی تمنا لئے اک عمر سے ابرک
دیواروں کے اس شہر میں در دیکھ رہے ہیں
جس سمت نہیں ہم، وہ ادھر دیکھ رہے ہیں
ہم بدلے ہوئے شام و سحر دیکھ رہے ہیں





Hai haqeeqat azaab rehne do

Hai haqeeqat azaab rehne do
ہے حقیقت، عذاب رہنے دو

Toot jaayega khwab rehne do
ٹوٹ جائے گا خواب، رہنے دو

Kab sazaawar hoon inayat ka
کب سزاوار ہوں عنایت کا

Yunhi zair-e-ataab rehne do
یونہی زیرِ عتاب رہنے دو

Tum jala do kitaab-e-hasti ko
تم جلا دو کتابِ ہستی کو

Ek mohabbat ka baab rehne do
اک محبت کا باب رہنے دو

Bekhudi mein sawaal kar baitha
بے خودی میں سوال کر بیٹھا

Chup raho lajawab rehne do
چپ رہو، لاجواب رہنے دو

Ab utaaro zameen pe chaand koi
اب اتارو زمیں پہ چاند کوئی

Ya unhein be-naqaab rehne do
یا انہیں بے نقاب رہنے دو

Log rakhe hain ab nazar hum par
لوگ رکھے ہیں اب نظر ہم پر

Farishto tum hisaab rehne do
فرشتو، تم حساب رہنے دو

Dekh baitha hoon paarsaon ko
دیکھ بیٹھا ہوں پارساؤں کو

Hum ko yunhi kharaab rehne do
ہم کو یونہی خراب رہنے دو

Mar na jaayein kahin sukoon se hum
مر نہ جائیں کہیں سکوں سے ہم

Dil mein kuch izteraab rehne do
دل میں کچھ اضطراب رہنے دو

Dil jigar jaan aap hain Abrak
دل، جگر، جان آپ ہیں ابرک

Sab hain baatein janaab rehne do
سب ہیں باتیں، جناب رہنے دو


Hai haqeeqat azaab rehne do
Hai haqeeqat azaab rehne do