Home » ATBAFABRAKPOETRY » Page 3
لگا کے کاندھے سے ہم کو رلانے والا نہیںجو کہہ گیا ہے کہ آئے گا آنے والا نہیںگزارا کرنا پڑے گا ہمارے دل میں تمہیںیہاں جو پہلے سے رہتا ہے جانے والا نہیںوہ کوئی اور تعلق بنانے بیٹھ گیامیں اٹھ گیا کہ نہیں، گر پرانے والا نہیںہمارے ساتھ شبِ غم گزارنی ہو گیہمارا قصہ سرِ رہ سنانے والا نہیںمیں اپنی راہ کو گھر سے بتا کے چلتا ہوںمیں حادثہ ہوں تجھے راس آنے والا نہیںکچھ اس لئے بھی ہے یاروں سے جی اچاٹ مراکہ ان میں عیب کوئی اب پرانے والا نہیںتو دیکھ سوجھی حفاظت کی کس جگہ ہم کوبچا ہی پاس جہاں کچھ بچانے والا نہیںوگرنہ کب کا میں ناراض ہو چکا ہوتاتمہارے بعد کوئی اب منانے والا نہیںدعائے خیر ہو ابرک ، ترا خدا حافظتو کچھ بھی کر لے تجھے ہوش آنے والا نہیں
بہاریں گم ہیں ، مسلسل خزاں کا موسم ہےکسی کے بس میں بھلا کب یہاں کا موسم ہےوہ اور لوگ ہیں موسم بدلتے ہیں جن کےیہاں تو مستقل اشکِ رواں کا موسم ہےمیں آنکھ، کان، زباں پر یقیں کروں کیسےمیں دل ہوں دل میں فقط اک گماں کا موسم ہےخدا کے حکم کے برعکس ہے نظام یہاںخفا یونہی تو نہیں آسماں کا موسم ہےخدا خدا ہے، خدا دے کے لے بھی سکتا ہےسو آج کل یہاں آہ و فغاں کا موسم ہےیہ ٹھیک ہے کہ مقدر بھی دخل رکھتا ہےترے ہی ہاتھ تری داستاں کا موسم ہےبھلا اتارے کوئی کیسے کاغذوں میں اسےوہ چہرہ چہرہ نہیں گلستاں کا موسم ہےعبث ہے بونا محبت کہ دل ہی بنجر ہیںجہاں کی سوچ میں تیر و کماں کا موسم ہےوہ حال پوچھے یہاں کا تو یہ بتا دیناجہاں پہ تو ہی نہیں، کیا وہاں کا موسم ہےیہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ آج کل ابرکترے لکھے میں بھی سود و زیاں کا موسم ہے
مانگے بنا ہمیں یہ رعایت بھی ہو گئیرونا چھپاتے، ہنسنے کی عادت بھی ہو گئیویسے تو اس سے پہلے بھی خانہ خراب تھاپھر یوں ہؤا کہ ہم کو محبت بھی ہو گئیدیکھا ہے تو نے آئینہ جڑتے ہوئے کبھیوہ دل ہی کیا کہ جس کی مرمت بھی ہو گئیاتنا بتا دے کھو کے کسی کو یوں یک بہ یکپھر پہلے جیسی کیسے طبیعت بھی ہو گئیتب تک اٹھائے ناز ضرورت تھا جب تلکپھر ایک روز پوری ضرورت بھی ہو گئیتا عمر ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کلاور آج تم کو ہم سے شکایت بھی ہو گئیلوٹا کوئی تو زخم پرانے بھی کھل اٹھےتجدیدِ بے وفائی کی صورت بھی ہو گئیکچھ ہاتھ کی لکیروں میں لکھا سبب بناکچھ حادثوں کی ہم پہ عنایت بھی ہو گئیایسا نہیں کہ جس کے تھے اس کے ہی بس رہےدو چار بار ہم سے خیانت بھی ہو گئی
نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے
خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے
نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے نہیں بنتی ہے میریخطا میری ہے میں کیوں سوچتا ہوںمٹانے کو مجھے سب مر رہے ہیںسو یہ تو طے ہؤا سب سے بڑا ہوںتمہارے مشوروں سے لگ رہا ہےمیں دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوںیہی اک حل سمجھ آیا تھا مجھ کوخفا تجھ سے تھا خود سے لڑ پڑا ہوںکوئی آئے بٹائے ہاتھ میرامیں اپنے بوجھ سے تھکنے لگا ہوںمقابل زیر کر بیٹھا تو دیکھااب اپنے سامنے میں خود کھڑا ہوں
رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد بھیکر ہجر میں شمار اسے وصل میں نہ لکھآیا نہ اب کی بار وہ آنے کے بعد بھیمجھ سے زیادہ حافظہ ہے مبتلا مراپڑھتا ہے تیرے خط یہ جلانے کے بعد بھیاب پیرِ تسمہ پا سے نہیں کم یہ زندگیجو بچ گئی ہے تجھ پہ لٹانے کے بعد بھییوں کارِ عشق فرق ہے کارِ جہان سےبڑھتا ہے بوجھ اور گھٹانے کے بعد بھیتقدیر سے انہیں بھی گلہ ہے، عجیب ہےملتے نہیں جو لوگ ملانے کے بعد بھیشاید رواج ہی نہیں ابرک یہاں رہارسوا ہوں کیوں وگرنہ نبھانے کے بعد بھیایسی سیاہ رات سے ہے واسطہ پڑاروشن ہؤا دیا نہ جلانے کے بعد بھیاکتا گیا ہے اک ہی مشقت سے دل مرالگتا نہیں ہے اب یہ لگانے کے بعد بھی
سرِ بازار سجاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوگر قلم بیچ کے کھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوجھوٹ کے پاؤں بناتے ہو تو کیوں لکھتے ہوآنکھ دیکھا نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہووقت کی دھونس میں آتے ہو تو کیوں لکھتے ہوشاہ کے ناز اٹھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوراہ سیدھی نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخضر ، رہزن کو بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخونِ ناحق جو چھپاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوظلم انصاف بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبات بے وجہ بڑھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہودیے نفرت کے جلاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخود کو لفظوں میں نچاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبس خریدار رجھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہو
بسا تو لیتے نیا دل میں ہم مکیں لیکنملا نہ آپ سے بڑھ کر کوئی حسیں لیکنکسی کے بعد بظاہر تو کچھ نہیں بدلاہمارے پاؤں تلے اب نہیں زمیں لیکنجہانِ عشق سے باہر بھی ایک دنیا ہےدلایا دل کو بہت ہم نے یہ یقیں ، لیکنیقیں مجھے ہے مرے ساتھ سانپ کوئی نہیںہر ایک ہاتھ کی ہوتی ہے آستیں لیکنہزار جام مچلتے رہے ہمارے لئےہماری پیاس نہ چھلکی کبھی کہیں لیکنسبھی فریب تھا لیکن وہ آخری جملہکبھی ملیں گے دوبارہ یہیں کہیں لیکنیہ اور بات خوشی ساتھ ساتھ ہے ابرکہمارے بیچ کوئی رابطہ نہیں لیکن
زندگی کی چاہت میں زندگی گنوائی ہے
عارضی محبت تھی مستقل نبھائی ہے
سوکھ کر ہرے پتے شاخ سے گریں گے پھر
ڈوبتا ہے دل میرا جب بہار آئی ہے
مختصر کہانی کچھ یوں ہے رائیگانی کی
بڑھ گئے اندھیرے کچھ، شمع جب جلائی ہے
قید میں رہائی کے خواب دیکھنے والا
اب رہا ہؤا ہے تو قید یاد آئی ہے
خاک پھر بھلا بنتی میری تیری دنیا سے
اک طرف خدا تو ہے، اک طرف خدائی ہے
مجھ کو بھی ملا دینا ، تم کو گر وہ مل جائے
خوش ہے زندگی جس سے ، جس کو راس آئی ہے
جلد باز کہتے ہیں راستے ہمیں ابرک
منزلوں کو شکوہ ہے دیر کیوں لگائی ہے