Skip to content

Tag: ATBAFABRAKPOETRY

JITNA PIYARA KHUD HAI UTNI PIYARI US KI SOCH HAI

جتنا پیارا خود ہے اُتنی پیاری اُس کی سوچ ہے
اُف وہ اتنا خوبصورت ہے کہ تیری سوچ ہے
نسلِ نَو کے شاعروں کو ہلکا پُھلکا مت سمجھ
جتنی سادہ شاعری ہے اُتنی گہری سوچ ہے
اختلافِ رائے کا مطلب عداوت تو نہیں
تیری اپنی سوچ ہے اور میری اپنی سوچ ہے
اُس کو چُھو لینا تو ہے اچھے نصیبوں والی بات
ویسے اُس کو سوچتے رہنا بھی اچھی سوچ ہے
اپنی رائے دینے سے کافر مَیں کیسے ہوگیا ؟
مجھ کو رکھنے دیجیے جو میری ذاتی سوچ ہے


IS MOHABAT MEIN YAHI AZAAR THA

اس محبت میں یہی آزار تھا
جو کیا جتنا کیا بے کار تھا

خواب تھا میرا کہ میں بیدار تھا
آپ آئے ، فیصلہ دشوار تھا

چاند تارے توڑ بھی لائے مگر
اس کو اب کچھ اور ہی درکار تھا

آنکھ کو بھاتے ہیں چہرے اور بھی
دل مرا پر صاحبِ کردار تھا

روتے روتے کیا بچھڑنا، ہنس دیے
ہم سے کب یہ پہلی پہلی بار تھا

خود کو اچھا کیسے کہہ دوں میں بھلا
آخرش میرا بھی اک معیار تھا

ایک جملے میں خلاصہ زیست کا
تخت جانا تھا جسے وہ دار تھا


DARGUZAR MERI HAR KHATA KAR DE

درگزر میری ہر خطا کر دے
بے سکوں ہوں سکوں عطا کر دے

میرے لب پر وہی دعا کر دے
جو معطل مری سزا کردے

بند کر دے ہر ایک در مجھ پر
اس طرح خود سے آشنا کر دے

اپنی خواہش کا ہوں ستایا ہوا
اپنی چاہت سا پھر نیا کر دے

جو نہ بھولے کبھی تجھے اک پل
حافظہ وہ مجھے عطا کر دے

سارا عالم ہے سر جھکائے ہوئے
لا دوا ہے مرض دوا کر دے

وہ نہ چاہے تو پھر بتا ابرک
کون ہے جو ترا بھلا کر دے


SAR YE HAR HAAL JHUKA, HUM NE QINAYAT KI THI

سر یہ ہر حال جھکا ، ہم نے قناعت کی تھی
اک تری بار ہی بس رب سے شکایت کی تھی

اِس قدر سخت سزا بھی تو نہیں بنتی تھی
ہم نے بچپن سے نکلنے کی شرارت کی تھی

ہوش والوں کی نہ باتوں میں ہمی آئے کبھی
ورنہ ہر اک نے سنبھلنے کی ہدایت کی تھی

معتبر تھے کبھی دنیا کی نظر میں ہم بھی
پھر ہوا یوں کہ مری تم نے حمایت کی تھی

ہم نے مانا کہ چلو مرکزی مجرم ہم ہیں
کچھ دنوں تم نے بھی تو ہم سے محبت کی تھی

بے وفاوں سے وفا خبط ہے لا حاصل سا
ہمیں معلوم تھا پھر بھی یہ حماقت کی تھی

نفع نقصان کی باتیں نہیں جچتی ہم کو
ہم نے کب یار ترے ساتھ تجارت کی تھی

مبتلا تازہ ہے تو، خوش ہے محبت سے تو سُن
اس نے آغاز میں ہم پر بھی عنایت کی تھی

کیوں زبانوں پہ فقط نام ترا ہے ابرک
تم سے پہلے بھی تو کتنوں نے بغاوت کی تھی


MEIN CHAL RAHA THA TERE SATH KIS YAKEEN KE SAATH

میں چل رہا تھا ترے ساتھ کس یقین کے ساتھ
ترا بھی رابطہ نکلا منافقین کے ساتھ
ہر ایک رند کی حیرت تھی دیکھنے والی
شریف زادوں کو دیکھا جو بد ترین کے ساتھ
جب آسمان پہ جوڑے بنائے جا رہے تھے
تو خال خال حسیں تھا کسی حسین کے ساتھ
جو سادہ دل ہیں وہی دل کو راس آتے ہیں
میں عشق کر نہیں سکتا کسی ذہین کے ساتھ
تمام شہر نے جھوٹی خبر کو مان لیا
صغیر دیکھا گیا ایک مہ جبین کے ساتھ


US KE NAZDEEK GUM-E-TARAK-E-WAFA KUCH BHI NAHIN

اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اُس کو کھو کر تو میرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشہ نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
اے شمار آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتہ کچھ بھی نہیں


DARHTI CHATKH RAHI HAI JO PAANI KE BAWAJOD

دھرتی چٹخ رہی ہے جو پانی کے باوجود
کچھ تو رُکا ہُوا ہے روانی کے باوجود
اے نخلِ نو بہار تیرے ساتھ کیا ہُوا
شانے جھکے ہوئے ہیں جوانی کے باوجود
ہم صنعتِ تضاد کی زندہ مثال ہیں
ہنسنا پڑا ہے اشک فشانی کے باوجود
یہ دورِ داستان فروشاں ہے سو یہاں
چلتی نہیں ہے بات کہانی کے باوجود
نقصان تو کرے گی یہ عُجلت کی پختگی
لفظوں میں رَس نہ ہو گا معانی کے باوجود
ہم نے جڑوں سے پیار کیا اور جُڑے رہے
اب تک ہرے ہیں عُمر خزانی کے باوجود


WOHI KALAM KARE JIS KO GHUFTAGO AYE

وہی کلام کرے جس کو گفتگو آئےسخن شناس ہے کوئی تو روبرو آئےہم اپنا دل لیے بیٹھے ہیں بام پر بے بسوہ جن کے پاس تھے پیسے وہ چاند چھو آئےدئیے بجھائے ہواؤں نے توڑ دی مینابرس چکی جو گھٹائیں تو ہم سبو آئےابھی سے پھر لیے جاتے ہو کوئے دلبر میںابھی تو یار لٹا کر ہیں آبرو آئےاسی اجاڑ اندھیرا بھرے مکاں میں حسنمیں چاند رات سجاؤں جو یار تو آئے


LE GAYA ROOH, BADAN CHOR GAYA

لے گیا روح ، بدن چھوڑ گیاخواب آنکھوں میں کفن چھوڑ گیاہم کو مشکل میں مگن چھوڑ گیادل بھی اب تیری لگن چھوڑ گیادوست آیا تھا تُو تو میرے لئےتُو تو اپنی بھی تھکن چھوڑ گیاپہلے مہکا کوئی خوشبو کی طرحپھر وہ سانسوں میں گھٹن چھوڑ گیاہم پرندوں پہ تھی ہجرت لازمجب شجر ہی وہ چمن چھوڑ گیاپھر وفا کا سکھا کے ہم کو چلنخود وہ کم ظرف یہ فن چھوڑ گیا


UMAR BHAR RASAM-E-PESH WAPAS MEIN RAHE

عمر بھر رسمِ پیش و پس میں رہےکیا عجب پھر کہ خار و خس میں رہےآپ کے غم کی دسترس میں رہےاس برس بھی اُسی برس میں رہےبے بسی اور کس کو کہتے ہیںجو نہیں ہے، اسی کے بس میں رہےتجھ سے ملنا تو خیر خواب ہی تھاخود سے ملنے کی ہم ہوس میں رہےصید ہوتے تو کوئی بات بھی تھیہو کے صیاد ہم قفس میں رہے