مُحسن غریب لوگ بھی , تِنکوں کا ڈھیر ھیں
مَلبے میں دَب گئے ، کبھی پانی میں بہہ گئے
Mohsin ghareeb log bhi, tinkon ka dhair hain
Malbay mein dab gaye, kabhi paani mein beh gaye
Urdu poetry collection
میں اس لئے بھی اکڑتا نہیں کمال کے وقت
کہ شرم سار نہ ہونا پڑے زوال کے وقت
دو اشک بھر کے ندامت سنبھال رکھی ہے
اگر جواب نہ سوجھا کوئی سوال کے وقت
سبھی کا لمحہ ء تخلیق ایک ساعتِ کُن
خدا کسی کو بناتا نہیں نکال کے وقت
میں دیکھتا ہوں ،،مدینہ ہے ،،ایک مسجد ہے
اور اس پہ خواب میں پہلی اذاں بلال کے وقت
ابھی تو زخم دیا ہے ابھی نہ دل سے اُتر
مکیں مکاں تو نہیں چھوڑتے وبال کے وقت
وہ دیکھنے میں تو عالی وقار دکھتا ہے
حسب نسب کی خبر ہو گی بول چال کے وقت
ہجوم رشک کرے گا کہ سنگ مارے گا
فقیر یہ تو نہیں سوچتا دھمال کے وقت
ڈاکٹر احمد خلیل
Main is liye bhi akarta nahin kamaal ke waqt
Ke sharm-saar na hona pare zawaal ke waqt
Do ashk bhar ke nadamat sambhaal rakhi hai
Agar jawaab na soojha koi sawaal ke waqt
Sabhi ka lamha-e-takhleeq aik sa’at-e-kun
Khuda kisi ko banata nahin nikaal ke waqt
Main dekhta hoon, Madina hai, aik masjid hai
Aur us pe khwab mein pehli azaan Bilal ke waqt
Abhi to zakhm diya hai, abhi na dil se utar
Makeen makaan to nahin chhodte wabaal ke waqt
Woh dekhne mein to aali waqaar dikhta hai
Hasab nasab ki khabar hogi bol chaal ke waqt
Hajoom rashk kare ga ke sang maare ga
Faqeer yeh to nahin sochta dhamaal ke waqt
– Dr. Ahmad Khalil
یہ کیسی عطا پر عطا ہو گئی ہےلکھا جو محمدﷺ ثنا ہو گئی ہےمجھے بھی خدارا مدینے بلا لیں یہاں زندگی اب سزا ہو گئی ہےکیا ذکر میں نے حبیبِ خدا کامعطر یہاں کی فضا ہو گئی ہےمیں ہر پل ثنائے محمدﷺ میں گُم ہوں مرے دل کو تسکیں عطا ہو گئی ہےلیا تیرگی میں جو نامِ محمدﷺمرے چار سو پھر ضیا ہو گئی ہےبچھڑ کر دیارِ نبیﷺ سے حذیفہخوشی مجھ سے ہراک خفا ہو گئی ہے
موسموں کے تغیر کو بھانپا نہیں چھتریاں کھول دیں
زخم بھرنے سے پہلے کسی نے مری پٹیاں کھول دیں
ہم مچھیروں سے پوچھو سمندر نہیں ہے یہ عفریت ہے
تم نے کیا سوچ کر ساحلوں سے بندھی کشتیاں کھول دیں
اس نے وعدوں کے پربت سے لٹکے ہوؤں کو سہارا دیا
اس کی آواز پر کوہ پیماؤں نے رسیاں کھول دیں
دشتِ غربت میں ، میں اور میرا یارِ شب زاد باہم ملے
یار کے پاس جو کچھ بھی تھا یار نے گٹھڑیاں کھول دیں
کچھ برس تو تری یاد کی ریل دل سے گزرتی رہی
اور پھر میں نے تھک ہار کے ایک دن پٹریاں کھول دیں
اس نے صحراؤں کی سیر کرتے ہوئے اک شجر کے تلے
اپنی آنکھوں سے عینک اتاری کہ دو ہرنیاں کھول دیں
زرد ہوتے ہوئے موسم کی نظر جانتا ہوں
چھوڑ جائیں گے پرندے بھی شجر، جانتا ہوں
تو سمجھتا ہے مرا ظرف ، مری نادانی
چپ مروت میں ہوں ہر بات مگر جانتا ہوں
کسی منزل کسی تعبیر کی امید نہیں
خواب تیرا ہے فقط زادِ سفر ، جانتا ہوں
وہ بھی دستک پہ مری کان نہیں دھرتا ہے
میں بھی دنیا میں فقط ایک ہی در جانتا ہوں
ارے قاصد یونہی رنجیدہ پریشان نہ ہو
تو جو لایا ہے خبر ، میں وہ خبر جانتا ہوں
لوٹ آنے پہ ترے جشن ہو برپا کیوں کر
پھر بدل جائے گی کل تیری نظر جانتا ہوں
سر جھکا کر جسے دستار ملے، اس پہ ہے تف
جرم انکار ہو جس کا ، اسے سر جانتا ہوں
میں بھی ہنستا تھا کبھی مجنوں کے افسانوں پر
آج مجنوں کی طرح دشت کو گھر جانتا ہوں
Nigha-e-aib geeri sey jo dekha ahil-e-aalam ko,
Koi kafir,koi fasiq,koi zandiq-e-akbar tha,
Magar jab hogaya dil ahtesab-e-nafs par maail,
Huwa sabit ke har farzand-e-aadam mujh sey behtar tha…
نگاہ عیب گیری سے جو دیکھا اہل عالم کو
کوئی کافر ،کوئی فاسق ،کوئی زندیق اکبر تھا
مگر جب ہوگیا دل احتساب نفس پر مائل
ہوا ثابت کہ ہر فرزند آدم مجھ سے بہتر تھا