Skip to content

Category: Poetry

Urdu poetry collection

MANGEY BINA HUMEIN YE RIYAT BHI HOGAI

مانگے بنا ہمیں یہ رعایت بھی ہو گئیرونا چھپاتے، ہنسنے کی عادت بھی ہو گئیویسے تو اس سے پہلے بھی خانہ خراب تھاپھر یوں ہؤا کہ ہم کو محبت بھی ہو گئیدیکھا ہے تو نے آئینہ جڑتے ہوئے کبھیوہ دل ہی کیا کہ جس کی مرمت بھی ہو گئیاتنا بتا دے کھو کے کسی کو یوں یک بہ یکپھر پہلے جیسی کیسے طبیعت بھی ہو گئیتب تک اٹھائے ناز ضرورت تھا جب تلکپھر ایک روز پوری ضرورت بھی ہو گئیتا عمر ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کلاور آج تم کو ہم سے شکایت بھی ہو گئیلوٹا کوئی تو زخم پرانے بھی کھل اٹھےتجدیدِ بے وفائی کی صورت بھی ہو گئیکچھ ہاتھ کی لکیروں میں لکھا سبب بناکچھ حادثوں کی ہم پہ عنایت بھی ہو گئیایسا نہیں کہ جس کے تھے اس کے ہی بس رہےدو چار بار ہم سے خیانت بھی ہو گئی


Jab uska nam

جب اس کا نام آئے کسی کی زبان پر

اس وقت غور سے میرے چہرے کا حال دیکھ۔


Aaeina rakh key saamney…

Aaeina rakh key saamney yaa rab wo fitna saaz,

Tarmeem kar raha hai terey shahkaar mein…

آئینہ رکھ کے سامنے یا رب وہ فتنہ ساز

ترمیم کر رہا ہے تیرے شہکار میں


Ab hum bhi

اَب ہم بِھی کُچھ اِظہارِ تَمنّا نَہ کریں گے

وُہ رُوٹھ گئے ہیں تو ہَمارا بِھی خُدا ھَے


Khush fehmiyun key silsily…

Khush fehmiyun key silsily itney daraz hain,

Har eent sochti hai dewar mujh sey hai…

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں

ہر اینٹ سوچتی ہے دیوار مجھ سے ہے


Iss raah-e-shoq mein…

Iss raah-e-shoq mein merey na tajurba shanas,

Gheeron sey dar na dar magar apno sey ahtiyat..

اس راہ شوق میں میرے نہ تجربہ شناس

غیروں سے ڈر نہ ڈر مگر اپنوں سے احتیاط


Tu agar raati barabar bhi

تُو اگر ! رتّی برَابَر بھی مُسیّر ہُو مُجھے 

میں تُجھے ! تیری ، تَوَقُّع سے زیَادہ چاہُوں 


NA JEENEY KI SAHULAT HAI NA MARNEY KI IJAZAT HAI

نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے


KHAWAB DIKHLA KEY NIKAL JAATEY HAIN TABEERON SEY

خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے


DO GHARHI MANGI JAHAN JANEY KI FURSAT HUM NEY

دو گھڑی مانگی جہاں جینے کی فرصت ہم نےزندگی کو یہ لگا ، کی ہے شکایت ہم نےجس سے لڑتے ہیں اسے آپ منا لیتے ہیںخوب بدلی ہے ترے بعد یہ عادت ہم نےجانے کیا حال ترے بعد ہوا ہو اپناتیرے جاتے ہی کیا خود کو بھی رخصت ہم نےایک ہی شخص پہ موقوف جہاں کیا کرنادل کو بہکایا بہت ، لاکھ کی منت ہم نےکٹ گئے یونہی ترے ہجر میں سب ماہ و سالایک صورت کے سوا دیکھی نہ صورت ہم نےیونہی الزام نہ دے دیکھ بھلے یاروں کوکسی ناصح کی سنی کب ہے نصیحت ہم نےبیچ آتی ہیں ہمیں روز ہماری سانسیںاپنے ہونے کی چکائی بڑی قیمت ہم نےایک دنیا ہمیں پہلے بھی یہاں جانتی تھیبس ترے غم ہی سے پائی نہیں شہرت ہم نےاپنے حالات پہ ہنستے ہیں بہت ہنستے ہیںکیسی کم ظرف یہ پائی ہے طبیعت ہم نےحادثے زخم بھی دیتے ہیں سبق بھی ابرکایک ہی شخص سے پکڑی بڑی عبرت ہم نے