Be khudi be sabab nahin Ghalib,
Kuch to hai jis ki parda dari hai…
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
Be khudi be sabab nahin Ghalib,
Kuch to hai jis ki parda dari hai…
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
لگا کے کاندھے سے ہم کو رلانے والا نہیںجو کہہ گیا ہے کہ آئے گا آنے والا نہیںگزارا کرنا پڑے گا ہمارے دل میں تمہیںیہاں جو پہلے سے رہتا ہے جانے والا نہیںوہ کوئی اور تعلق بنانے بیٹھ گیامیں اٹھ گیا کہ نہیں، گر پرانے والا نہیںہمارے ساتھ شبِ غم گزارنی ہو گیہمارا قصہ سرِ رہ سنانے والا نہیںمیں اپنی راہ کو گھر سے بتا کے چلتا ہوںمیں حادثہ ہوں تجھے راس آنے والا نہیںکچھ اس لئے بھی ہے یاروں سے جی اچاٹ مراکہ ان میں عیب کوئی اب پرانے والا نہیںتو دیکھ سوجھی حفاظت کی کس جگہ ہم کوبچا ہی پاس جہاں کچھ بچانے والا نہیںوگرنہ کب کا میں ناراض ہو چکا ہوتاتمہارے بعد کوئی اب منانے والا نہیںدعائے خیر ہو ابرک ، ترا خدا حافظتو کچھ بھی کر لے تجھے ہوش آنے والا نہیں
بہاریں گم ہیں ، مسلسل خزاں کا موسم ہےکسی کے بس میں بھلا کب یہاں کا موسم ہےوہ اور لوگ ہیں موسم بدلتے ہیں جن کےیہاں تو مستقل اشکِ رواں کا موسم ہےمیں آنکھ، کان، زباں پر یقیں کروں کیسےمیں دل ہوں دل میں فقط اک گماں کا موسم ہےخدا کے حکم کے برعکس ہے نظام یہاںخفا یونہی تو نہیں آسماں کا موسم ہےخدا خدا ہے، خدا دے کے لے بھی سکتا ہےسو آج کل یہاں آہ و فغاں کا موسم ہےیہ ٹھیک ہے کہ مقدر بھی دخل رکھتا ہےترے ہی ہاتھ تری داستاں کا موسم ہےبھلا اتارے کوئی کیسے کاغذوں میں اسےوہ چہرہ چہرہ نہیں گلستاں کا موسم ہےعبث ہے بونا محبت کہ دل ہی بنجر ہیںجہاں کی سوچ میں تیر و کماں کا موسم ہےوہ حال پوچھے یہاں کا تو یہ بتا دیناجہاں پہ تو ہی نہیں، کیا وہاں کا موسم ہےیہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ آج کل ابرکترے لکھے میں بھی سود و زیاں کا موسم ہے
مانگے بنا ہمیں یہ رعایت بھی ہو گئیرونا چھپاتے، ہنسنے کی عادت بھی ہو گئیویسے تو اس سے پہلے بھی خانہ خراب تھاپھر یوں ہؤا کہ ہم کو محبت بھی ہو گئیدیکھا ہے تو نے آئینہ جڑتے ہوئے کبھیوہ دل ہی کیا کہ جس کی مرمت بھی ہو گئیاتنا بتا دے کھو کے کسی کو یوں یک بہ یکپھر پہلے جیسی کیسے طبیعت بھی ہو گئیتب تک اٹھائے ناز ضرورت تھا جب تلکپھر ایک روز پوری ضرورت بھی ہو گئیتا عمر ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کلاور آج تم کو ہم سے شکایت بھی ہو گئیلوٹا کوئی تو زخم پرانے بھی کھل اٹھےتجدیدِ بے وفائی کی صورت بھی ہو گئیکچھ ہاتھ کی لکیروں میں لکھا سبب بناکچھ حادثوں کی ہم پہ عنایت بھی ہو گئیایسا نہیں کہ جس کے تھے اس کے ہی بس رہےدو چار بار ہم سے خیانت بھی ہو گئی
Aaeina rakh key saamney yaa rab wo fitna saaz,
Tarmeem kar raha hai terey shahkaar mein…
آئینہ رکھ کے سامنے یا رب وہ فتنہ ساز
ترمیم کر رہا ہے تیرے شہکار میں
اَب ہم بِھی کُچھ اِظہارِ تَمنّا نَہ کریں گے
وُہ رُوٹھ گئے ہیں تو ہَمارا بِھی خُدا ھَے
Khush fehmiyun key silsily itney daraz hain,
Har eent sochti hai dewar mujh sey hai…
خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں
ہر اینٹ سوچتی ہے دیوار مجھ سے ہے
Iss raah-e-shoq mein merey na tajurba shanas,
Gheeron sey dar na dar magar apno sey ahtiyat..
اس راہ شوق میں میرے نہ تجربہ شناس
غیروں سے ڈر نہ ڈر مگر اپنوں سے احتیاط
نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے
خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے