SAR SE PAON TAK WO GHULABOON KA SHAJAR LAGTA HAI

سر سے پا تک وہ گلابوں کا شجر لگتا ہے
باوضو ہو کے بھی چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے

میں ترے ساتھ ستاروں سے گزر سکتا ہوں
کتنا آسان محبت کا سفر لگتا ہے

مجھ میں رہتا ہے کوئی دشمن جانی میرا
خود سے تنہائی میں ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے

بُت بھی رکھے ہیں، نمازیں بھی ادا ہوتی ہیں
دل میرا دل نہیں، اللہ کا گھر لگتا ہے

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے​


Leave a Reply