Skip to content

Author: Uzair ahmed

Kuch alag tha Andaz

کچھ الگ تھا انداز کہنے کا انکا
کہ سنا بھی کچھ نہیں اور کہا بھی کچھ نہیں۔

کچھ اس طرح بکھرے انکے پیار میں ہم
کہ ٹوٹا بھی کچھ نہیں اور بچا بھی کچھ نہیں۔

Kabhi Jo Mudato Bad

کبھی جو مدتوں کے بعد اُس کا سامنا ہوگا
سوائے پاس آدابِ تکلف اور کیا ہوگا
ہنسی آتی ہے مجھکو مصلحت کے ان تقاضوں پر
کہ اب اک اجنبی بن کر اسے پہچاننا ہوگا

جون ایلیاء