Home » Archives for March 2026 » Page 9
آزمانے کی چیز تھا ہی نہیںدل لگانے کی چیز تھا ہی نہیںکاش بر وقت ہم سمجھ پاتےتو گنوانے کی چیز تھا ہی نہیںہو کے ناراض تجھ سے یہ جانامیں منانے کی چیز تھا ہی نہیںجی جلا کر خبر یہ ہوتی ہےجی جلانے کی چیز تھا ہی نہیںمتفق ہوں میں اس زمانے سےمیں زمانے کی چیز تھا ہی نہیںاس کی بخشش ہے ہم فقیروں پرغم کمانے کی چیز تھا ہی نہیںمجھ کو بھولے ہوئے بھی مانتے ہیںمیں بھلانے کی چیز تھا ہی نہیں
تلخ لہجہ اورتوجہ کی کمی سے مر بھی جاتے ہیں
پُھول، پودے اور یہ انسان وغیرہ
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئےگی
یہ بھی ممکن ھے کہ زاھد، میری خاموشی
تیری برسوں کی عبادت سے بھی افضل نکلے
وہ تو باتیں نہیں سمجھ پاتا
دکھ تو پھر بے زبان ہوتے ہیں
حقِ تنقید ہے تمہیں مگر اس شرط کیساتھ
جائزہ لیتے رہو اپنے بھی گریبانوں کا
وہ جو مدت سے تیرے ساتھ بسر کر رہا ہوں
میں نے وہ عمر تیرے ساتھ گزاری بھی نہیں
ڈرے ہوؤں نے تمہیں بھی ڈرا دیا ورنہ
خدا تو پیار سکھاتا ہے، کچھ نہیں کہتا
Dare huon ne tumhein bhi ḍara diya warna
Khuda to pyaar sikhata hai, kuch nahi kehta
درد مندوں سے نہ پوچھو کہ کدھر بیٹھ گئے
تیری محفل میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئے