Skip to content

Month: March 2026

DOREIN LAGI HUI HAIN IBADAAT KI TARAF…

دوڑیں لگی ہوئی ہیں عبادات کی طرف
سب کی نظر ہے اپنے مفادات کی طرف
مجھ کو پتہ ہے چپ کے خسارے تو ہیں ، مگر
کیسے گھسیٹ لاؤں اسے بات کی طرف
دیکھا ! حسین شخص نے نقصان کر دیا
کس نے کہا تھا جا تُو فسادات کی طرف
عادات سر کے ساتھ ہی جاتی ہیں میری جان !
آخر پلٹنا پڑتا ہے عادات کی طرف
بے چینیاں ، مصیبتیں ، وحشت ، اذیتیں
اک دن چلو گے تم بھی مکافات کی طرف
خود سر اٹھا کے چلنے کے قابل نہیں ہوئے
انگلی اٹھا رہے ہیں مری ذات کی طرف
بے حرمتی کسی کی ہو ، دکھ مجھ کو ہوتا ہے
میرا خیال جاتا ہے سادات کی طرف


ISHQ MEIN LAJAWAB HAIN HUM LOG…

عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ
ماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگ
گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ
شام سے آ گئے جو پینے پر
صبح تک آفتاب ہیں ہم لوگ
ہم کو دعوائے عشق بازی ہے
مستحق عذاب ہیں ہم لوگ
ناز کرتی ہے خانہ ویرانی
ایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ
ہم نہیں جانتے خزاں کیا ہے
کشتگان شباب ہیں ہم لوگ
تو ہمارا جواب ہے تنہا
اور تیرا جواب ہیں ہم لوگ
تو ہے دریائے حسن و محبوبی
شکل موج و حباب ہیں ہم لوگ
گو سراپا حجاب ہیں پھر بھی
تیرے رخ کی نقاب ہیں ہم لوگ
خوب ہم جانتے ہیں اپنی قدر
تیرے نا کامیاب ہیں ہم لوگ
ہم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہو
رہرو ملک خواب ہیں ہم لوگ
جانتا بھی ہے اس کو تو واعظ
جس کے مست و خراب ہیں ہم لوگ
ہم پہ نازل ہوا صحیفۂ عشق
صاحبان کتاب ہیں ہم لوگ
ہر حقیقت سے جو گزر جائیں
وہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ
جب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھے
کتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ


JO SHAKS MUDATOON MEREY SHEDAYOON MEIN THA…

جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
آفت کے وقت وہ بھی ، تماشائیوں میں تھا
اس کا علاج ، کوئی مسیحا نہ کر سکا
جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا
کچھ وضع احتیاط سے ، بانوؔ تھے ہم بھی دور
کچھ دوستوں کا ہاتھ بھی رسوائیوں میں تھا


YE LAZAMI NAHIN

یہ لازمی نہیں بانہوں کے درمیاں بھی رہے
مِری دُعا ہے کہ تُو خوش رہے جہاں بھی رہے
یہی بہت ہے کہ نظروں کے سامنے ہے وہ شخص
کہاں لکھا ہے کہ وہ مجھ پہ مہرباں بھی رہے
تُو جاتے جاتے مجھے ایسا زخم دیتا جا
کہ درد بھی رہے تاعُمر اور نشاں بھی رہے
نگاہِ یار نے کل یُوں سنبھل کے دیکھا مجھے
کہ تذکرہ بھی نہ ہو اور داستاں بھی رہے
نبھا رہا ہے تعلق وہ اس طرح فارس
کہ دوستی بھی لگے، عشق کا گماں بھی رہے


KYA LAGEY ANKH KEY PHIR DIL MEIN SAMAYA KOI

کیا لگے آنکھ کہ پھر دل میں سمایا کوئی
رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی
فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر
لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ
رنج یہ ہے کہ تماشا نہ دکھایا کوئی
شہر میں ہمدمِ دیرینہ بہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مرے کام نہ آیا کوئی


Qafiley daldalon mein…

Qafiley daldalon mein ja thehrey,

Rehnuma phir bhi rehnuma thehrey…

قافلے دلدلوں میں جا ٹہرے

رہنما پھر بھی رہنما ٹہرے

Matloob hamesha

مطلوب ہمیشہ ساکت ہوتا ہے

ہمیشہ طالب ہی اس کے گرد گھومتے ہیں ۔


Bara naaz tha

بڑا ناز تھا عدم ، اُن کی چاہت کا 

اب کہاں چھپائیں ، ندامتیں اپنی