Skip to content

Month: March 2026

KUCH TO HAWA BHI SARD THI KUCH THA TERA KHAYAL BHI

‏کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھیدل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھیمیری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھیاس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھیگاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھیاس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھیشام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی


YAAR BHI RAAH KI DEWAR SAMJHTE HAIN MUJHE

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھےمیں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھےجڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میںدور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھےکیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائےآپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھےنیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہےاور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھےمیں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوںاور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھےمیں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوںدیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھےوہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیںیہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھےمیں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوںاور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھےروشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میںہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھےجرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والااور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھےلاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے


APNI TASWEER KO RAKH KAR TERI TASWEER KE SAATH

اپنی تصویر کو رکھ کر تیری تصویر کے ساتھمیں نے یہ عمر گزاری بڑی تدبیر کے ساتھہو گیا دفن یہ قصہ بھی جہانگیر کے ساتھاب کہاں عدل کا رشتہ رہا زنجیر کے ساتھجس کو میں اپنا بناتا ہوں ، بچھڑ جاتا ہےمیری بنتی ہی نہیں ، کاتب تقدیر کے ساتھ


KEHTA HOON WAHI BATSAMJHTA HOON JESE HAQ

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقنے آبلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزنداپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی نا خوشمیں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قندمشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوندہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموشمیں بندہ مومن ہوں، نہیں دانہ اسپندپر سوز و نظر باز و نکوبین و کم آزارآزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسندہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرمکیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خندچپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالکرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند


ZINDAGI PHOOL HAI,KHUSHBOO HAI,MAGAR YAAD RAHE

زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہےزندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہےچال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصولبُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہےایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔناُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے


Sab jurm meri zaat sey mansoob hain Muhsin

Sab jurm meri zaat sey mansoob hain Muhsin,

Kya merey siwa shehr mein masoom hain sarey…


سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسن

کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے


Sab jurm meri zaat sey mansoob hain

Khata’ein ho hi jaati hain

Khata’ein ho hi jaati hain, azaaley bhi to mumkin hain,

Jesey mujh sey shikayt ho, usey kehna miley mujh sey…


خطائیں ہو ہی جاتی ہیں ، ازالے بھی تو ممکن ہیں

جیسے مجھ سے شکایت ہو ، اسے کہنا ملے مجھ سے


Khata'ein ho hi jaati hain, azaley bhi to mumkin hain...

Khak ho key reh gayi barson ki riyazat…

Khak ho key reh gayi barson ki riyazat,

Mujh ko bigar dala teri nazar kharab ney…

خاک ہو کے رہ گئی برسوں کی ریاضت

مجھ کو بگاڑ ڈالا تیری نظر خراب نے

Tijarat ki garz sey bacha gareeb ka…

Tijarat ki garz sey bacha gareeb ka,

Khawab bechney aaya tha khilono ki chah mein…


تجارت کی غرض سے بچا غریب کا

خواب بیچنے آیا تھا کھلونوں کی چاہ میں



Mujhey ak gali mein para hua kisi bad naseeb ka..

Mujhey ak gali mein para hua kisi badnaseeb ka khat mila,

Kahin khoon-e-dil sey likha hua kahin anso’un sey mita hua …

مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا

کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا