Home » Archives for March 2026 » Page 5
کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیبات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کیچاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھیسب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتاایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھیدل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیںشیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھیاس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھااب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھیمیری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھرہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھیاس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیںاس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھیگاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواباس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھیاس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہےجسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھیشام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتاموج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھےمیں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھےجڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میںدور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھےکیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائےآپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھےنیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہےاور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھےمیں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوںاور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھےمیں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوںدیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھےوہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیںیہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھےمیں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوںاور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھےروشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میںہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھےجرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والااور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھےلاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے
اپنی تصویر کو رکھ کر تیری تصویر کے ساتھمیں نے یہ عمر گزاری بڑی تدبیر کے ساتھہو گیا دفن یہ قصہ بھی جہانگیر کے ساتھاب کہاں عدل کا رشتہ رہا زنجیر کے ساتھجس کو میں اپنا بناتا ہوں ، بچھڑ جاتا ہےمیری بنتی ہی نہیں ، کاتب تقدیر کے ساتھ
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقنے آبلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزنداپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی نا خوشمیں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قندمشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوندہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموشمیں بندہ مومن ہوں، نہیں دانہ اسپندپر سوز و نظر باز و نکوبین و کم آزارآزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسندہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرمکیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خندچپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالکرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند
زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہےزندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہےچال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصولبُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہےایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔناُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے
Sab jurm meri zaat sey mansoob hain Muhsin,
Kya merey siwa shehr mein masoom hain sarey…
سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسن
کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے
Khata’ein ho hi jaati hain, azaaley bhi to mumkin hain,
Jesey mujh sey shikayt ho, usey kehna miley mujh sey…
خطائیں ہو ہی جاتی ہیں ، ازالے بھی تو ممکن ہیں
جیسے مجھ سے شکایت ہو ، اسے کہنا ملے مجھ سے
Khak ho key reh gayi barson ki riyazat,
Mujh ko bigar dala teri nazar kharab ney…
خاک ہو کے رہ گئی برسوں کی ریاضت
مجھ کو بگاڑ ڈالا تیری نظر خراب نے
Tijarat ki garz sey bacha gareeb ka,
Khawab bechney aaya tha khilono ki chah mein…
تجارت کی غرض سے بچا غریب کا
خواب بیچنے آیا تھا کھلونوں کی چاہ میں
Mujhey ak gali mein para hua kisi badnaseeb ka khat mila,
Kahin khoon-e-dil sey likha hua kahin anso’un sey mita hua …
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا