Skip to content

Month: March 2026

Aaeina rakh key saamney…

Aaeina rakh key saamney yaa rab wo fitna saaz,

Tarmeem kar raha hai terey shahkaar mein…

آئینہ رکھ کے سامنے یا رب وہ فتنہ ساز

ترمیم کر رہا ہے تیرے شہکار میں


Ab hum bhi

اَب ہم بِھی کُچھ اِظہارِ تَمنّا نَہ کریں گے

وُہ رُوٹھ گئے ہیں تو ہَمارا بِھی خُدا ھَے


Khush fehmiyun key silsily…

Khush fehmiyun key silsily itney daraz hain,

Har eent sochti hai dewar mujh sey hai…

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں

ہر اینٹ سوچتی ہے دیوار مجھ سے ہے


Iss raah-e-shoq mein…

Iss raah-e-shoq mein merey na tajurba shanas,

Gheeron sey dar na dar magar apno sey ahtiyat..

اس راہ شوق میں میرے نہ تجربہ شناس

غیروں سے ڈر نہ ڈر مگر اپنوں سے احتیاط


Tu agar raati barabar bhi

تُو اگر ! رتّی برَابَر بھی مُسیّر ہُو مُجھے 

میں تُجھے ! تیری ، تَوَقُّع سے زیَادہ چاہُوں 


NA JEENEY KI SAHULAT HAI NA MARNEY KI IJAZAT HAI

نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے


KHAWAB DIKHLA KEY NIKAL JAATEY HAIN TABEERON SEY

خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے


DO GHARHI MANGI JAHAN JANEY KI FURSAT HUM NEY

دو گھڑی مانگی جہاں جینے کی فرصت ہم نےزندگی کو یہ لگا ، کی ہے شکایت ہم نےجس سے لڑتے ہیں اسے آپ منا لیتے ہیںخوب بدلی ہے ترے بعد یہ عادت ہم نےجانے کیا حال ترے بعد ہوا ہو اپناتیرے جاتے ہی کیا خود کو بھی رخصت ہم نےایک ہی شخص پہ موقوف جہاں کیا کرنادل کو بہکایا بہت ، لاکھ کی منت ہم نےکٹ گئے یونہی ترے ہجر میں سب ماہ و سالایک صورت کے سوا دیکھی نہ صورت ہم نےیونہی الزام نہ دے دیکھ بھلے یاروں کوکسی ناصح کی سنی کب ہے نصیحت ہم نےبیچ آتی ہیں ہمیں روز ہماری سانسیںاپنے ہونے کی چکائی بڑی قیمت ہم نےایک دنیا ہمیں پہلے بھی یہاں جانتی تھیبس ترے غم ہی سے پائی نہیں شہرت ہم نےاپنے حالات پہ ہنستے ہیں بہت ہنستے ہیںکیسی کم ظرف یہ پائی ہے طبیعت ہم نےحادثے زخم بھی دیتے ہیں سبق بھی ابرکایک ہی شخص سے پکڑی بڑی عبرت ہم نے


NA JAANE KITNEY TUKRON MEIN BATA HUN

نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے نہیں بنتی ہے میریخطا میری ہے میں کیوں سوچتا ہوںمٹانے کو مجھے سب مر رہے ہیںسو یہ تو طے ہؤا سب سے بڑا ہوںتمہارے مشوروں سے لگ رہا ہےمیں دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوںیہی اک حل سمجھ آیا تھا مجھ کوخفا تجھ سے تھا خود سے لڑ پڑا ہوںکوئی آئے بٹائے ہاتھ میرامیں اپنے بوجھ سے تھکنے لگا ہوںمقابل زیر کر بیٹھا تو دیکھااب اپنے سامنے میں خود کھڑا ہوں


REHTA HAI SATH SATH WO JANEY KEY BAAD BHI

رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد بھیکر ہجر میں شمار اسے وصل میں نہ لکھآیا نہ اب کی بار وہ آنے کے بعد بھیمجھ سے زیادہ حافظہ ہے مبتلا مراپڑھتا ہے تیرے خط یہ جلانے کے بعد بھیاب پیرِ تسمہ پا سے نہیں کم یہ زندگیجو بچ گئی ہے تجھ پہ لٹانے کے بعد بھییوں کارِ عشق فرق ہے کارِ جہان سےبڑھتا ہے بوجھ اور گھٹانے کے بعد بھیتقدیر سے انہیں بھی گلہ ہے، عجیب ہےملتے نہیں جو لوگ ملانے کے بعد بھیشاید رواج ہی نہیں ابرک یہاں رہارسوا ہوں کیوں وگرنہ نبھانے کے بعد بھیایسی سیاہ رات سے ہے واسطہ پڑاروشن ہؤا دیا نہ جلانے کے بعد بھیاکتا گیا ہے اک ہی مشقت سے دل مرالگتا نہیں ہے اب یہ لگانے کے بعد بھی