تنہائی کے عذاب، قیامت کے رات دِن
اور سوچتے ہی رہنے کی عادت کے رات دِن
اِک رازدارِ خاص کو ہر وقت ڈھونڈنا
بے اعتباریوں میں ضرورت کے رات دِن
وہ ہر کسی سے اپنا ہی احوال پوچھنا
اپنے سے بھی تجاہل و غفلت کے رات دِن
بے وجہ اپنے آپ کو ہر وقت کوسنا
بے سود ہر کسی سے شکایت کے رات دِن
پہلے بھی جاں گُسل تھے مگر اِس قدر نہ تھے
اِک شہرِ بے اَماں میں سکونت کے رات دِن
احمد فراز