Naam hi kaya, nishan hi kaya, khuwab oe khayal ho gaye,
Teri misaal de ke hum teri misaal ho gaye…
نام ہی کیا، نشان ہی کیا ،خواب او خیال ہو گئے
تیری مثال دے کے ہم تیری مثال ہو گئے
لگا کے کاندھے سے ہم کو رلانے والا نہیںجو کہہ گیا ہے کہ آئے گا آنے والا نہیںگزارا کرنا پڑے گا ہمارے دل میں تمہیںیہاں جو پہلے سے رہتا ہے جانے والا نہیںوہ کوئی اور تعلق بنانے بیٹھ گیامیں اٹھ گیا کہ نہیں، گر پرانے والا نہیںہمارے ساتھ شبِ غم گزارنی ہو گیہمارا قصہ سرِ رہ سنانے والا نہیںمیں اپنی راہ کو گھر سے بتا کے چلتا ہوںمیں حادثہ ہوں تجھے راس آنے والا نہیںکچھ اس لئے بھی ہے یاروں سے جی اچاٹ مراکہ ان میں عیب کوئی اب پرانے والا نہیںتو دیکھ سوجھی حفاظت کی کس جگہ ہم کوبچا ہی پاس جہاں کچھ بچانے والا نہیںوگرنہ کب کا میں ناراض ہو چکا ہوتاتمہارے بعد کوئی اب منانے والا نہیںدعائے خیر ہو ابرک ، ترا خدا حافظتو کچھ بھی کر لے تجھے ہوش آنے والا نہیں
بہاریں گم ہیں ، مسلسل خزاں کا موسم ہےکسی کے بس میں بھلا کب یہاں کا موسم ہےوہ اور لوگ ہیں موسم بدلتے ہیں جن کےیہاں تو مستقل اشکِ رواں کا موسم ہےمیں آنکھ، کان، زباں پر یقیں کروں کیسےمیں دل ہوں دل میں فقط اک گماں کا موسم ہےخدا کے حکم کے برعکس ہے نظام یہاںخفا یونہی تو نہیں آسماں کا موسم ہےخدا خدا ہے، خدا دے کے لے بھی سکتا ہےسو آج کل یہاں آہ و فغاں کا موسم ہےیہ ٹھیک ہے کہ مقدر بھی دخل رکھتا ہےترے ہی ہاتھ تری داستاں کا موسم ہےبھلا اتارے کوئی کیسے کاغذوں میں اسےوہ چہرہ چہرہ نہیں گلستاں کا موسم ہےعبث ہے بونا محبت کہ دل ہی بنجر ہیںجہاں کی سوچ میں تیر و کماں کا موسم ہےوہ حال پوچھے یہاں کا تو یہ بتا دیناجہاں پہ تو ہی نہیں، کیا وہاں کا موسم ہےیہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ آج کل ابرکترے لکھے میں بھی سود و زیاں کا موسم ہے