اپنی تصویر کو رکھ کر تیری تصویر کے ساتھمیں نے یہ عمر گزاری بڑی تدبیر کے ساتھہو گیا دفن یہ قصہ بھی جہانگیر کے ساتھاب کہاں عدل کا رشتہ رہا زنجیر کے ساتھجس کو میں اپنا بناتا ہوں ، بچھڑ جاتا ہےمیری بنتی ہی نہیں ، کاتب تقدیر کے ساتھ
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقنے آبلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزنداپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی نا خوشمیں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قندمشکل ہے کہ اک بندہ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوندہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموشمیں بندہ مومن ہوں، نہیں دانہ اسپندپر سوز و نظر باز و نکوبین و کم آزارآزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسندہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرمکیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکر خندچپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالکرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند
اپنی پلکوں پہ جمی گرد کا حاصل مانگے
وہ مسافر ہوں جو ہر موڑ پہ منزل مانگے
.
میری وسعت کی طلب نے مجھے محدود کیا
میں وہ دریا ہوں جو موجوں سے بھی ساحل مانگے
.
خواہش وصل کو سو رنگ کے مفہوم دئیے
بات آساں تھی مگر لفظ تو مشکل مانگے
.
دل کی ضد پر نہ خفا ہو میرے افلاک نشیں
دل تو پانی سے بھی عکس ماہ کامل مانگے
.
سانس میری تھی مگر اس سے طلب کی محسن
جیسے خیرات سخی سے کوئی سائل مانگے
.
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
رگ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مر کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا
نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دو چار ہوتا
یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا