زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہےزندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہےچال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصولبُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہےایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔناُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے
Teatimepoetry.com
زندگی پُھول ہے، خوشبو ہے، مگر یاد رہےزندگی، گردشِ حالات بھی ہو سکتی ہےچال چلتے ہُوئے، شطرنج کی بازی کے اُصولبُھول جاؤ گے، تو پھر مات بھی ہوسکتی ہےایک تو چھت کے بِنا گھر ہے ہمارا مُحسؔناُس پہ یہ خوف کہ برسات بھی ہو سکتی ہے
اپنی پلکوں پہ جمی گرد کا حاصل مانگے
وہ مسافر ہوں جو ہر موڑ پہ منزل مانگے
.
میری وسعت کی طلب نے مجھے محدود کیا
میں وہ دریا ہوں جو موجوں سے بھی ساحل مانگے
.
خواہش وصل کو سو رنگ کے مفہوم دئیے
بات آساں تھی مگر لفظ تو مشکل مانگے
.
دل کی ضد پر نہ خفا ہو میرے افلاک نشیں
دل تو پانی سے بھی عکس ماہ کامل مانگے
.
سانس میری تھی مگر اس سے طلب کی محسن
جیسے خیرات سخی سے کوئی سائل مانگے
.