Skip to content

Hobbies Posts

MEIN CHAL RAHA THA TERE SATH KIS YAKEEN KE SAATH

میں چل رہا تھا ترے ساتھ کس یقین کے ساتھ
ترا بھی رابطہ نکلا منافقین کے ساتھ
ہر ایک رند کی حیرت تھی دیکھنے والی
شریف زادوں کو دیکھا جو بد ترین کے ساتھ
جب آسمان پہ جوڑے بنائے جا رہے تھے
تو خال خال حسیں تھا کسی حسین کے ساتھ
جو سادہ دل ہیں وہی دل کو راس آتے ہیں
میں عشق کر نہیں سکتا کسی ذہین کے ساتھ
تمام شہر نے جھوٹی خبر کو مان لیا
صغیر دیکھا گیا ایک مہ جبین کے ساتھ


US KE NAZDEEK GUM-E-TARAK-E-WAFA KUCH BHI NAHIN

اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اُس کو کھو کر تو میرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغازِ محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشہ نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
اے شمار آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتہ کچھ بھی نہیں


DARHTI CHATKH RAHI HAI JO PAANI KE BAWAJOD

دھرتی چٹخ رہی ہے جو پانی کے باوجود
کچھ تو رُکا ہُوا ہے روانی کے باوجود
اے نخلِ نو بہار تیرے ساتھ کیا ہُوا
شانے جھکے ہوئے ہیں جوانی کے باوجود
ہم صنعتِ تضاد کی زندہ مثال ہیں
ہنسنا پڑا ہے اشک فشانی کے باوجود
یہ دورِ داستان فروشاں ہے سو یہاں
چلتی نہیں ہے بات کہانی کے باوجود
نقصان تو کرے گی یہ عُجلت کی پختگی
لفظوں میں رَس نہ ہو گا معانی کے باوجود
ہم نے جڑوں سے پیار کیا اور جُڑے رہے
اب تک ہرے ہیں عُمر خزانی کے باوجود


WOHI KALAM KARE JIS KO GHUFTAGO AYE

وہی کلام کرے جس کو گفتگو آئےسخن شناس ہے کوئی تو روبرو آئےہم اپنا دل لیے بیٹھے ہیں بام پر بے بسوہ جن کے پاس تھے پیسے وہ چاند چھو آئےدئیے بجھائے ہواؤں نے توڑ دی مینابرس چکی جو گھٹائیں تو ہم سبو آئےابھی سے پھر لیے جاتے ہو کوئے دلبر میںابھی تو یار لٹا کر ہیں آبرو آئےاسی اجاڑ اندھیرا بھرے مکاں میں حسنمیں چاند رات سجاؤں جو یار تو آئے


LE GAYA ROOH, BADAN CHOR GAYA

لے گیا روح ، بدن چھوڑ گیاخواب آنکھوں میں کفن چھوڑ گیاہم کو مشکل میں مگن چھوڑ گیادل بھی اب تیری لگن چھوڑ گیادوست آیا تھا تُو تو میرے لئےتُو تو اپنی بھی تھکن چھوڑ گیاپہلے مہکا کوئی خوشبو کی طرحپھر وہ سانسوں میں گھٹن چھوڑ گیاہم پرندوں پہ تھی ہجرت لازمجب شجر ہی وہ چمن چھوڑ گیاپھر وفا کا سکھا کے ہم کو چلنخود وہ کم ظرف یہ فن چھوڑ گیا


UMAR BHAR RASAM-E-PESH WAPAS MEIN RAHE

عمر بھر رسمِ پیش و پس میں رہےکیا عجب پھر کہ خار و خس میں رہےآپ کے غم کی دسترس میں رہےاس برس بھی اُسی برس میں رہےبے بسی اور کس کو کہتے ہیںجو نہیں ہے، اسی کے بس میں رہےتجھ سے ملنا تو خیر خواب ہی تھاخود سے ملنے کی ہم ہوس میں رہےصید ہوتے تو کوئی بات بھی تھیہو کے صیاد ہم قفس میں رہے


DOOR HAD-E-NAZAR SE AGEY KAHIN

دور حدِ نظر سے آگے کہیں
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
اب بھی سورج کی ہے وہی عادت
گھر کے آنگن کو وہ جگاتا ہے
مرمریں شوخ سی حسیں کرنیں
چہرے سب چوم کر اٹھاتی ہیں
وہاں صبحیں بڑی توانا ہیں
اور سب دن بھی خوب دانا ہیں
منہ اندھیرے سفر کو جاتے ہیں
روز پھر گھر میں شام ہوتی ہے
وہی برگد تلے کی ہیں شامیں
ایک حقہ تو ہیں کئی سامع
اب بھی فکریں گلی محلے کی
باتوں باتوں میں ختم ہوتی ہیں
وہی بچوں کا ہے حسیں بچپن
جگنو, تتلی کی ہے وہی ان بن
وہی جھریوں سی پیاری نانی ہے
وہی پریوں کى اک کہانی ہے
سبھی موسم وہاں نشیلے ہیں
وہی قوسِ قزح کے جھولے ہیں
وہاں بارش کی مستیاں اب تک
ٹین کی چھت پہ گنگناتی ہیں
ہے سخن باکمال لوگوں کا
میٹھا پن لازوال لہجوں کا
سچ ہے جذبوں کی روح میں شامل
واں محبت نہ آزماتی ہے
وہاں باقی ہے دوستی کا مان
اور رشتوں میں جان باقی ہے
اب بھی جنت ہے ماں کے قدموں میں
اب بھی ماں لوریاں سناتی ہے
خوشبویں مٹیوں میں زندہ ہیں
عکس بھی پانیوں میں ہیں باقی
اب بھی تاروں کے سنگ راتوں کو
چاندنی محفلیں سجاتی ہے
اب بھی راتوں کو چاند کی سکھیاں
اپنے چندا سے ملنے جاتی ہیں
اور کھڑے دور ایک سائے کو
اپنی سب دھڑکنیں سناتی ہیں
اب تلک امن فاصلوں میں ہے
جشن بھرپور قافلوں میں ہے
گھر کو سب لوٹتے مسافر ہیں
ان کی یادیں نہیں ستاتی ہیں
چلو ہم بھی وہیں پہ چلتے ہیں
دل جہاں آج بھی دھڑکتے ہیں
جہاں اب تک یہ وقت ساکن ہے
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
دور حدِ نظر سے آگے کہیں
زندگی اب بھی مسکراتی ہے


MERE HISE MEIN KAM KAM ARAHA HAI

مرے حصے میں کم کم آ رہا ہے
کہاں تو یار بٹتا جا رہا ہے
میسر چودھویں کا چاند بھی ہے
اماوس کا مزا بھی آ رہا ہے
ہمیں اس پھول سے یہ مسئلہ ہے
کہ خوشبو چار سو پھیلا رہا ہے
بچھڑنے تک یقیں تھا پھر یہ خطرہ
ٹلے گا جس طرح ٹلتا رہا ہے
نہ خود کو کوس تو اپنے کئے پر
ہمارے ساتھ یوں ہوتا رہا ہے
جہاں تو تھا وہاں کوئی رہے کیوں
ہمارا خود سے یہ جھگڑا رہا ہے
جدائی نے بجھا ڈالا ہے اس کو
ترے پہلو میں جو جلتا رہا ہے


AZMANEY KI CHEZ THA HI NAHIN

آزمانے کی چیز تھا ہی نہیںدل لگانے کی چیز تھا ہی نہیںکاش بر وقت ہم سمجھ پاتےتو گنوانے کی چیز تھا ہی نہیںہو کے ناراض تجھ سے یہ جانامیں منانے کی چیز تھا ہی نہیںجی جلا کر خبر یہ ہوتی ہےجی جلانے کی چیز تھا ہی نہیںمتفق ہوں میں اس زمانے سےمیں زمانے کی چیز تھا ہی نہیںاس کی بخشش ہے ہم فقیروں پرغم کمانے کی چیز تھا ہی نہیںمجھ کو بھولے ہوئے بھی مانتے ہیںمیں بھلانے کی چیز تھا ہی نہیں