Us ki zulf bhi merey jeevan jesi hai,
Our uljh si jaati hai, suljhaney mein…
اس کی زلف بھی میرے جیون جیسی ہے
اور الجھ سی جاتی ہے سلجھانے میں
حاکم کو میرے حال سے رغبت نہیں کوئی
بارش کا سر پہ زور ہے اور چھت نہیں کوئی
سیلاب لے گیا مرے تن کا لباس بھی
حیرت ہے اب بھی آپ کو حیرت نہیں کوئی
ہر شے کے نرخ بڑھ گئے ، افسوس اس کا ہے
انساں کی میرے دیس میں قیمت نہیں کوئی
اک دن ہوائے وقت کی زد میں تُو آئے گا
اور آئے گی صدا تجھے مہلت نہیں کوئی
مالک مرے سبھی رضاکاروں کی خیر ہو
اس کارِ خیر سے بڑی عظمت نہیں کوئی
khud bhi kuch kam nahin mein apni tabahi ke lye
doston se mujhey imdad bhi aa jati hai
rona hota hai kisi or hawale se mujhey
or aesey mein teri yaad bhi aa jati hai
خود بھی کچھ کم نہیں میں اپنی تباہی کے لیے
دوستوں سے مجھے امداد بھی آ جاتی ہے
رونا ہوتا ہے کسی اور حوالے سے مجھے
اور ایسے میں تری یاد بھی آ جاتی ہے