Bedad-e-ishq sey nahin darta magar ASAD,
Jis dil pey naaz tha wo dil nahin raha…
بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسد
جس دل پہ ناز تھا وہ دل نہیں رہا
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
اک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
آنسو چھلک چھلک کے ستائیں گے رات بھر
موتی پلک پلک میں پرویا کریں گے ہم
جب دُوریوں کی آگ دلوں کو جلائے گی
جِسموں کو چاندنی میں بھگویا کریں گے ہم
بن کر ہر ایک بزم کا موضوعِ گفتگو
شعروں میں تیرے غم کو سمویا کریں گے ہم
مجبوریوں کے زہر سے کر لیں گے خود کشی
یہ بُزدلی کا جرم بھی گویا کریں گے ہم
دل جل رہا ہے زرد شجر دیکھ دیکھ کر
اب چاہتوں کے بیج نہ بویا کریں گے ہم
گر دے گیا دغا ہمیں طوفان بھی قتیلؔ
ساحل پہ کشتیوں کو ڈبویا کریں گے ہم
گرمیٔ حسرتِ نا کام سے جل جاتے ہیںہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیںشمع جس آگ میں جَلتی ہے نمائش کیلئےہم اُسی آگ میں، گُمنام سے جل جاتے ہیںبَچ نِکلتے ہیں اگر آتشِ سیّال سے ہمشعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیںخود نمائی تو نہِیں شیوۂ اربابِ وفاجن کو جَلنا ہو ، وُہ آرام سے جل جاتے ہیںربطِ باہم پہ ہمیں کَیا نہ کہَیں گے دُشمنآشنا جب تیرے پیغام سے جل جاتے ہیںجب بھی آتا ہے مِرا نام ، تِرے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ، مِرے نام سے جل جاتے ہیں
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھااس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھاکوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤوہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھاآج سوئے ہیں تہ خاک نہ جانے یہاں کتنےکوئی شعلہ کوئی شبنم کوئی مہتاب جبیں تھااب وہ پھرتے ہیں اسی شہر میں تنہا لیے دل کواک زمانے میں مزاج ان کا سر عرش بریں تھاچھوڑنا گھر کا ہمیں یاد ہے جالبؔ نہیں بھولےتھا وطن ذہن میں اپنے کوئی زنداں تو نہیں تھا