تُو اگر ! رتّی برَابَر بھی مُسیّر ہُو مُجھے
میں تُجھے ! تیری ، تَوَقُّع سے زیَادہ چاہُوں
نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے
خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے
دو گھڑی مانگی جہاں جینے کی فرصت ہم نےزندگی کو یہ لگا ، کی ہے شکایت ہم نےجس سے لڑتے ہیں اسے آپ منا لیتے ہیںخوب بدلی ہے ترے بعد یہ عادت ہم نےجانے کیا حال ترے بعد ہوا ہو اپناتیرے جاتے ہی کیا خود کو بھی رخصت ہم نےایک ہی شخص پہ موقوف جہاں کیا کرنادل کو بہکایا بہت ، لاکھ کی منت ہم نےکٹ گئے یونہی ترے ہجر میں سب ماہ و سالایک صورت کے سوا دیکھی نہ صورت ہم نےیونہی الزام نہ دے دیکھ بھلے یاروں کوکسی ناصح کی سنی کب ہے نصیحت ہم نےبیچ آتی ہیں ہمیں روز ہماری سانسیںاپنے ہونے کی چکائی بڑی قیمت ہم نےایک دنیا ہمیں پہلے بھی یہاں جانتی تھیبس ترے غم ہی سے پائی نہیں شہرت ہم نےاپنے حالات پہ ہنستے ہیں بہت ہنستے ہیںکیسی کم ظرف یہ پائی ہے طبیعت ہم نےحادثے زخم بھی دیتے ہیں سبق بھی ابرکایک ہی شخص سے پکڑی بڑی عبرت ہم نے
نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے نہیں بنتی ہے میریخطا میری ہے میں کیوں سوچتا ہوںمٹانے کو مجھے سب مر رہے ہیںسو یہ تو طے ہؤا سب سے بڑا ہوںتمہارے مشوروں سے لگ رہا ہےمیں دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوںیہی اک حل سمجھ آیا تھا مجھ کوخفا تجھ سے تھا خود سے لڑ پڑا ہوںکوئی آئے بٹائے ہاتھ میرامیں اپنے بوجھ سے تھکنے لگا ہوںمقابل زیر کر بیٹھا تو دیکھااب اپنے سامنے میں خود کھڑا ہوں
رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد بھیکر ہجر میں شمار اسے وصل میں نہ لکھآیا نہ اب کی بار وہ آنے کے بعد بھیمجھ سے زیادہ حافظہ ہے مبتلا مراپڑھتا ہے تیرے خط یہ جلانے کے بعد بھیاب پیرِ تسمہ پا سے نہیں کم یہ زندگیجو بچ گئی ہے تجھ پہ لٹانے کے بعد بھییوں کارِ عشق فرق ہے کارِ جہان سےبڑھتا ہے بوجھ اور گھٹانے کے بعد بھیتقدیر سے انہیں بھی گلہ ہے، عجیب ہےملتے نہیں جو لوگ ملانے کے بعد بھیشاید رواج ہی نہیں ابرک یہاں رہارسوا ہوں کیوں وگرنہ نبھانے کے بعد بھیایسی سیاہ رات سے ہے واسطہ پڑاروشن ہؤا دیا نہ جلانے کے بعد بھیاکتا گیا ہے اک ہی مشقت سے دل مرالگتا نہیں ہے اب یہ لگانے کے بعد بھی
سرِ بازار سجاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوگر قلم بیچ کے کھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوجھوٹ کے پاؤں بناتے ہو تو کیوں لکھتے ہوآنکھ دیکھا نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہووقت کی دھونس میں آتے ہو تو کیوں لکھتے ہوشاہ کے ناز اٹھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوراہ سیدھی نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخضر ، رہزن کو بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخونِ ناحق جو چھپاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوظلم انصاف بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبات بے وجہ بڑھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہودیے نفرت کے جلاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخود کو لفظوں میں نچاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبس خریدار رجھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہو
بسا تو لیتے نیا دل میں ہم مکیں لیکنملا نہ آپ سے بڑھ کر کوئی حسیں لیکنکسی کے بعد بظاہر تو کچھ نہیں بدلاہمارے پاؤں تلے اب نہیں زمیں لیکنجہانِ عشق سے باہر بھی ایک دنیا ہےدلایا دل کو بہت ہم نے یہ یقیں ، لیکنیقیں مجھے ہے مرے ساتھ سانپ کوئی نہیںہر ایک ہاتھ کی ہوتی ہے آستیں لیکنہزار جام مچلتے رہے ہمارے لئےہماری پیاس نہ چھلکی کبھی کہیں لیکنسبھی فریب تھا لیکن وہ آخری جملہکبھی ملیں گے دوبارہ یہیں کہیں لیکنیہ اور بات خوشی ساتھ ساتھ ہے ابرکہمارے بیچ کوئی رابطہ نہیں لیکن
زندگی کی چاہت میں زندگی گنوائی ہے
عارضی محبت تھی مستقل نبھائی ہے
سوکھ کر ہرے پتے شاخ سے گریں گے پھر
ڈوبتا ہے دل میرا جب بہار آئی ہے
مختصر کہانی کچھ یوں ہے رائیگانی کی
بڑھ گئے اندھیرے کچھ، شمع جب جلائی ہے
قید میں رہائی کے خواب دیکھنے والا
اب رہا ہؤا ہے تو قید یاد آئی ہے
خاک پھر بھلا بنتی میری تیری دنیا سے
اک طرف خدا تو ہے، اک طرف خدائی ہے
مجھ کو بھی ملا دینا ، تم کو گر وہ مل جائے
خوش ہے زندگی جس سے ، جس کو راس آئی ہے
جلد باز کہتے ہیں راستے ہمیں ابرک
منزلوں کو شکوہ ہے دیر کیوں لگائی ہے
Kya lage aankh ke phir dil mein samaya koi
کیا لگے آنکھ کہ پھر دل میں سمایا کوئی
Raat bhar phirta hai is shehar mein saaya koi
رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی
Fikr yeh thi ke shab-e-hijr kate gi kyun kar
فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر
Lutf yeh hai ke humein yaad na aaya koi
لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی
Shoq yeh tha ke mohabbat mein jalen ge chup chaap
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ
Ranj yeh hai ke tamasha na dikhaya koi
رنج یہ ہے کہ تماشا نہ دکھایا کوئی
Shehar mein humdam-e-deerana bohat the Nasir
شہر میں ہمدمِ دیرینہ بہت تھے ناصر
Waqt padne pe mere kaam na aaya koi
وقت پڑنے پہ مرے کام نہ آیا کوئی