Skip to content

Hobbies Posts

Tu agar raati barabar bhi

تُو اگر ! رتّی برَابَر بھی مُسیّر ہُو مُجھے 

میں تُجھے ! تیری ، تَوَقُّع سے زیَادہ چاہُوں 


NA JEENEY KI SAHULAT HAI NA MARNEY KI IJAZAT HAI

نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہےغمِ ہستی ، غمِ بستی ، غمِ دوراں، غمِ ہجراںاور اس پر بھی دھڑکنا دل کا، ہم کو اس پہ حیرت ہےکسی کی چپ کا مطلب یہ نہیں، شکوہ نہیں اُس کوکھلا اعلان ہے یہ تو ، شکایت ہی شکایت ہےمکر جانا ، بدل جانا ، جفا کرنا ، دغا دینایہ سب کچھ آ گیا تجھ کو تو پھر تیری حکومت ہےنہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقیتو پھر زندان یہ کیونکر ، تو پھر کیسی حراست ہےکچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میںہر اک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے


KHAWAB DIKHLA KEY NIKAL JAATEY HAIN TABEERON SEY

خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں نہیں ہے کہ فقط تو ہی خفا ہے مجھ سےخود بھی عاجز ہوں بہت، اپنی ہی تدبیروں سےمجھ کو معلوم نہیں پڑتا عدو کون ہے تومیں پتہ پوچھتا رہتا ہوں ترا، تیروں سےجیتنا ہے تو محبت سے ہرانا ہو گالوگ ڈرتے نہیں اب آپ کی شمشیروں سےدن بدل جائیں گے تیرے جو خدا مل جائےخود بخود ہاتھ چھڑا لے گا تو ان پیروں سےوہ تو کہتا ہے کہ آسان زباں ہے میریہم نے آسانی کو مشکل کیا تفسیروں سےآج سب سے بڑے ناقد ہیں وہی لوگ مرےجن کو تحریک ملی تھی مری تحریروں سے


DO GHARHI MANGI JAHAN JANEY KI FURSAT HUM NEY

دو گھڑی مانگی جہاں جینے کی فرصت ہم نےزندگی کو یہ لگا ، کی ہے شکایت ہم نےجس سے لڑتے ہیں اسے آپ منا لیتے ہیںخوب بدلی ہے ترے بعد یہ عادت ہم نےجانے کیا حال ترے بعد ہوا ہو اپناتیرے جاتے ہی کیا خود کو بھی رخصت ہم نےایک ہی شخص پہ موقوف جہاں کیا کرنادل کو بہکایا بہت ، لاکھ کی منت ہم نےکٹ گئے یونہی ترے ہجر میں سب ماہ و سالایک صورت کے سوا دیکھی نہ صورت ہم نےیونہی الزام نہ دے دیکھ بھلے یاروں کوکسی ناصح کی سنی کب ہے نصیحت ہم نےبیچ آتی ہیں ہمیں روز ہماری سانسیںاپنے ہونے کی چکائی بڑی قیمت ہم نےایک دنیا ہمیں پہلے بھی یہاں جانتی تھیبس ترے غم ہی سے پائی نہیں شہرت ہم نےاپنے حالات پہ ہنستے ہیں بہت ہنستے ہیںکیسی کم ظرف یہ پائی ہے طبیعت ہم نےحادثے زخم بھی دیتے ہیں سبق بھی ابرکایک ہی شخص سے پکڑی بڑی عبرت ہم نے


NA JAANE KITNEY TUKRON MEIN BATA HUN

نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے نہیں بنتی ہے میریخطا میری ہے میں کیوں سوچتا ہوںمٹانے کو مجھے سب مر رہے ہیںسو یہ تو طے ہؤا سب سے بڑا ہوںتمہارے مشوروں سے لگ رہا ہےمیں دنیا میں اکیلا رہ گیا ہوںیہی اک حل سمجھ آیا تھا مجھ کوخفا تجھ سے تھا خود سے لڑ پڑا ہوںکوئی آئے بٹائے ہاتھ میرامیں اپنے بوجھ سے تھکنے لگا ہوںمقابل زیر کر بیٹھا تو دیکھااب اپنے سامنے میں خود کھڑا ہوں


REHTA HAI SATH SATH WO JANEY KEY BAAD BHI

رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد بھیکر ہجر میں شمار اسے وصل میں نہ لکھآیا نہ اب کی بار وہ آنے کے بعد بھیمجھ سے زیادہ حافظہ ہے مبتلا مراپڑھتا ہے تیرے خط یہ جلانے کے بعد بھیاب پیرِ تسمہ پا سے نہیں کم یہ زندگیجو بچ گئی ہے تجھ پہ لٹانے کے بعد بھییوں کارِ عشق فرق ہے کارِ جہان سےبڑھتا ہے بوجھ اور گھٹانے کے بعد بھیتقدیر سے انہیں بھی گلہ ہے، عجیب ہےملتے نہیں جو لوگ ملانے کے بعد بھیشاید رواج ہی نہیں ابرک یہاں رہارسوا ہوں کیوں وگرنہ نبھانے کے بعد بھیایسی سیاہ رات سے ہے واسطہ پڑاروشن ہؤا دیا نہ جلانے کے بعد بھیاکتا گیا ہے اک ہی مشقت سے دل مرالگتا نہیں ہے اب یہ لگانے کے بعد بھی


SAR E BAZAAR SAJATEY HO TO KYUN LIKHTEY HO

سرِ بازار سجاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوگر قلم بیچ کے کھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوجھوٹ کے پاؤں بناتے ہو تو کیوں لکھتے ہوآنکھ دیکھا نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہووقت کی دھونس میں آتے ہو تو کیوں لکھتے ہوشاہ کے ناز اٹھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوراہ سیدھی نہ دکھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخضر ، رہزن کو بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخونِ ناحق جو چھپاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوظلم انصاف بتاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبات بے وجہ بڑھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہودیے نفرت کے جلاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوخود کو لفظوں میں نچاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوبس خریدار رجھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہو


BASA TO LETEY NAYA DIL MEIN HUM MAKEEN LEKIN

بسا تو لیتے نیا دل میں ہم مکیں لیکنملا نہ آپ سے بڑھ کر کوئی حسیں لیکنکسی کے بعد بظاہر تو کچھ نہیں بدلاہمارے پاؤں تلے اب نہیں زمیں لیکنجہانِ عشق سے باہر بھی ایک دنیا ہےدلایا دل کو بہت ہم نے یہ یقیں ، لیکنیقیں مجھے ہے مرے ساتھ سانپ کوئی نہیںہر ایک ہاتھ کی ​ہوتی ہے آستیں لیکنہزار جام مچلتے رہے ہمارے لئےہماری پیاس نہ چھلکی کبھی کہیں لیکنسبھی فریب تھا لیکن وہ آخری جملہکبھی ملیں گے دوبارہ یہیں کہیں لیکنیہ اور بات خوشی ساتھ ساتھ ہے ابرکہمارے بیچ کوئی رابطہ نہیں لیکن


ZINDAGI KI CHAHAT MEIN ZINDAGI GANWAI HAI

زندگی کی چاہت میں زندگی گنوائی ہے
عارضی محبت تھی مستقل نبھائی ہے
سوکھ کر ہرے پتے شاخ سے گریں گے پھر
ڈوبتا ہے دل میرا جب بہار آئی ہے
مختصر کہانی کچھ یوں ہے رائیگانی کی
بڑھ گئے اندھیرے کچھ، شمع جب جلائی ہے
قید میں رہائی کے خواب دیکھنے والا
اب رہا ہؤا ہے تو قید یاد آئی ہے
خاک پھر بھلا بنتی میری تیری دنیا سے
اک طرف خدا تو ہے، اک طرف خدائی ہے
مجھ کو بھی ملا دینا ، تم کو گر وہ مل جائے
خوش ہے زندگی جس سے ، جس کو راس آئی ہے
جلد باز کہتے ہیں راستے ہمیں ابرک
منزلوں کو شکوہ ہے دیر کیوں لگائی ہے


Kya lage aankh ke phir dil mein samaya koi

Kya lage aankh ke phir dil mein samaya koi
کیا لگے آنکھ کہ پھر دل میں سمایا کوئی

Raat bhar phirta hai is shehar mein saaya koi
رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی

Fikr yeh thi ke shab-e-hijr kate gi kyun kar
فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر

Lutf yeh hai ke humein yaad na aaya koi
لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی

Shoq yeh tha ke mohabbat mein jalen ge chup chaap
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ

Ranj yeh hai ke tamasha na dikhaya koi
رنج یہ ہے کہ تماشا نہ دکھایا کوئی

Shehar mein humdam-e-deerana bohat the Nasir
شہر میں ہمدمِ دیرینہ بہت تھے ناصر

Waqt padne pe mere kaam na aaya koi
وقت پڑنے پہ مرے کام نہ آیا کوئی