Skip to content

Hobbies Posts

Wo koyi dost tha..

Wo koyi dost tha achey dono ka,

Jo pichli raat sey yaad aa raha hai…

وہ کوئی دوست تھا اچھے دونوں کا

جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے


Qasid hi nahin logon…

Qasid hi nahin logon uss shakhs ka dewana,

Do char kabutar bhi mein ney bhej key dekhey hain…

قاصد ہی نہیں لوگوں اس شخص کا دیوانہ

دو چار کبوتر بھی میں نے بھیج کے دیکھے ہیں


be khudi be sabab nahin..

Be khudi be sabab nahin Ghalib,

Kuch to hai jis ki parda dari hai…


بے خودی بے سبب نہیں غالب

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے


LAGA KEY KANDHEY SEY HUM KO RULANEY WALA NAHIN

لگا کے کاندھے سے ہم کو رلانے والا نہیںجو کہہ گیا ہے کہ آئے گا آنے والا نہیںگزارا کرنا پڑے گا ہمارے دل میں تمہیںیہاں جو پہلے سے رہتا ہے جانے والا نہیںوہ کوئی اور تعلق بنانے بیٹھ گیامیں اٹھ گیا کہ نہیں، گر پرانے والا نہیںہمارے ساتھ شبِ غم گزارنی ہو گیہمارا قصہ سرِ رہ سنانے والا نہیںمیں اپنی راہ کو گھر سے بتا کے چلتا ہوںمیں حادثہ ہوں تجھے راس آنے والا نہیںکچھ اس لئے بھی ہے یاروں سے جی اچاٹ مراکہ ان میں عیب کوئی اب پرانے والا نہیںتو دیکھ سوجھی حفاظت کی کس جگہ ہم کوبچا ہی پاس جہاں کچھ بچانے والا نہیںوگرنہ کب کا میں ناراض ہو چکا ہوتاتمہارے بعد کوئی اب منانے والا نہیںدعائے خیر ہو ابرک ، ترا خدا حافظتو کچھ بھی کر لے تجھے ہوش آنے والا نہیں


BAHAREIN GUM HAIN, MUSALSAL KHIZAN KA MOSAM HAI

بہاریں گم ہیں ، مسلسل خزاں کا موسم ہےکسی کے بس میں بھلا کب یہاں کا موسم ہےوہ اور لوگ ہیں موسم بدلتے ہیں جن کےیہاں تو مستقل اشکِ رواں کا موسم ہےمیں آنکھ، کان، زباں پر یقیں کروں کیسےمیں دل ہوں دل میں فقط اک گماں کا موسم ہےخدا کے حکم کے برعکس ہے نظام یہاںخفا یونہی تو نہیں آسماں کا موسم ہےخدا خدا ہے، خدا دے کے لے بھی سکتا ہےسو آج کل یہاں آہ و فغاں کا موسم ہےیہ ٹھیک ہے کہ مقدر بھی دخل رکھتا ہےترے ہی ہاتھ تری داستاں کا موسم ہےبھلا اتارے کوئی کیسے کاغذوں میں اسےوہ چہرہ چہرہ نہیں گلستاں کا موسم ہےعبث ہے بونا محبت کہ دل ہی بنجر ہیںجہاں کی سوچ میں تیر و کماں کا موسم ہےوہ حال پوچھے یہاں کا تو یہ بتا دیناجہاں پہ تو ہی نہیں، کیا وہاں کا موسم ہےیہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ آج کل ابرکترے لکھے میں بھی سود و زیاں کا موسم ہے


MANGEY BINA HUMEIN YE RIYAT BHI HOGAI

مانگے بنا ہمیں یہ رعایت بھی ہو گئیرونا چھپاتے، ہنسنے کی عادت بھی ہو گئیویسے تو اس سے پہلے بھی خانہ خراب تھاپھر یوں ہؤا کہ ہم کو محبت بھی ہو گئیدیکھا ہے تو نے آئینہ جڑتے ہوئے کبھیوہ دل ہی کیا کہ جس کی مرمت بھی ہو گئیاتنا بتا دے کھو کے کسی کو یوں یک بہ یکپھر پہلے جیسی کیسے طبیعت بھی ہو گئیتب تک اٹھائے ناز ضرورت تھا جب تلکپھر ایک روز پوری ضرورت بھی ہو گئیتا عمر ساتھ چلنے کا وعدہ کیا تھا کلاور آج تم کو ہم سے شکایت بھی ہو گئیلوٹا کوئی تو زخم پرانے بھی کھل اٹھےتجدیدِ بے وفائی کی صورت بھی ہو گئیکچھ ہاتھ کی لکیروں میں لکھا سبب بناکچھ حادثوں کی ہم پہ عنایت بھی ہو گئیایسا نہیں کہ جس کے تھے اس کے ہی بس رہےدو چار بار ہم سے خیانت بھی ہو گئی


Jab uska nam

جب اس کا نام آئے کسی کی زبان پر

اس وقت غور سے میرے چہرے کا حال دیکھ۔


Aaeina rakh key saamney…

Aaeina rakh key saamney yaa rab wo fitna saaz,

Tarmeem kar raha hai terey shahkaar mein…

آئینہ رکھ کے سامنے یا رب وہ فتنہ ساز

ترمیم کر رہا ہے تیرے شہکار میں


Ab hum bhi

اَب ہم بِھی کُچھ اِظہارِ تَمنّا نَہ کریں گے

وُہ رُوٹھ گئے ہیں تو ہَمارا بِھی خُدا ھَے


Khush fehmiyun key silsily…

Khush fehmiyun key silsily itney daraz hain,

Har eent sochti hai dewar mujh sey hai…

خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں

ہر اینٹ سوچتی ہے دیوار مجھ سے ہے