Skip to content

Category: Poetry

Urdu poetry collection

DOOR HAD-E-NAZAR SE AGEY KAHIN

دور حدِ نظر سے آگے کہیں
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
اب بھی سورج کی ہے وہی عادت
گھر کے آنگن کو وہ جگاتا ہے
مرمریں شوخ سی حسیں کرنیں
چہرے سب چوم کر اٹھاتی ہیں
وہاں صبحیں بڑی توانا ہیں
اور سب دن بھی خوب دانا ہیں
منہ اندھیرے سفر کو جاتے ہیں
روز پھر گھر میں شام ہوتی ہے
وہی برگد تلے کی ہیں شامیں
ایک حقہ تو ہیں کئی سامع
اب بھی فکریں گلی محلے کی
باتوں باتوں میں ختم ہوتی ہیں
وہی بچوں کا ہے حسیں بچپن
جگنو, تتلی کی ہے وہی ان بن
وہی جھریوں سی پیاری نانی ہے
وہی پریوں کى اک کہانی ہے
سبھی موسم وہاں نشیلے ہیں
وہی قوسِ قزح کے جھولے ہیں
وہاں بارش کی مستیاں اب تک
ٹین کی چھت پہ گنگناتی ہیں
ہے سخن باکمال لوگوں کا
میٹھا پن لازوال لہجوں کا
سچ ہے جذبوں کی روح میں شامل
واں محبت نہ آزماتی ہے
وہاں باقی ہے دوستی کا مان
اور رشتوں میں جان باقی ہے
اب بھی جنت ہے ماں کے قدموں میں
اب بھی ماں لوریاں سناتی ہے
خوشبویں مٹیوں میں زندہ ہیں
عکس بھی پانیوں میں ہیں باقی
اب بھی تاروں کے سنگ راتوں کو
چاندنی محفلیں سجاتی ہے
اب بھی راتوں کو چاند کی سکھیاں
اپنے چندا سے ملنے جاتی ہیں
اور کھڑے دور ایک سائے کو
اپنی سب دھڑکنیں سناتی ہیں
اب تلک امن فاصلوں میں ہے
جشن بھرپور قافلوں میں ہے
گھر کو سب لوٹتے مسافر ہیں
ان کی یادیں نہیں ستاتی ہیں
چلو ہم بھی وہیں پہ چلتے ہیں
دل جہاں آج بھی دھڑکتے ہیں
جہاں اب تک یہ وقت ساکن ہے
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
دور حدِ نظر سے آگے کہیں
زندگی اب بھی مسکراتی ہے


MERE HISE MEIN KAM KAM ARAHA HAI

مرے حصے میں کم کم آ رہا ہے
کہاں تو یار بٹتا جا رہا ہے
میسر چودھویں کا چاند بھی ہے
اماوس کا مزا بھی آ رہا ہے
ہمیں اس پھول سے یہ مسئلہ ہے
کہ خوشبو چار سو پھیلا رہا ہے
بچھڑنے تک یقیں تھا پھر یہ خطرہ
ٹلے گا جس طرح ٹلتا رہا ہے
نہ خود کو کوس تو اپنے کئے پر
ہمارے ساتھ یوں ہوتا رہا ہے
جہاں تو تھا وہاں کوئی رہے کیوں
ہمارا خود سے یہ جھگڑا رہا ہے
جدائی نے بجھا ڈالا ہے اس کو
ترے پہلو میں جو جلتا رہا ہے


AZMANEY KI CHEZ THA HI NAHIN

آزمانے کی چیز تھا ہی نہیںدل لگانے کی چیز تھا ہی نہیںکاش بر وقت ہم سمجھ پاتےتو گنوانے کی چیز تھا ہی نہیںہو کے ناراض تجھ سے یہ جانامیں منانے کی چیز تھا ہی نہیںجی جلا کر خبر یہ ہوتی ہےجی جلانے کی چیز تھا ہی نہیںمتفق ہوں میں اس زمانے سےمیں زمانے کی چیز تھا ہی نہیںاس کی بخشش ہے ہم فقیروں پرغم کمانے کی چیز تھا ہی نہیںمجھ کو بھولے ہوئے بھی مانتے ہیںمیں بھلانے کی چیز تھا ہی نہیں


Talakh lehja or Tawana ki kami

تلخ لہجہ اورتوجہ کی کمی سے مر بھی جاتے ہیں

پُھول، پودے اور یہ انسان وغیرہ


wo to sadiyon ka safar kar ke

وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا

تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں 


Dil sey niklegi na mar kar bhi

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئےگی


Ye bhi mumkin hai zahid

یہ بھی ممکن ھے کہ زاھد،  میری خاموشی

تیری برسوں کی عبادت سے بھی افضل نکلے 


Haq tanqeed hai tumhari

حقِ تنقید ہے تمہیں مگر اس شرط کیساتھ

جائزہ لیتے رہو اپنے بھی گریبانوں کا


Wo jo mudat se basar kar raha hoon

وہ جو مدت سے تیرے ساتھ بسر کر رہا ہوں

میں نے وہ عمر تیرے ساتھ گزاری بھی نہیں