NA JEENEY KI SAHULAT HAI NA MARNEY KI IJAZAT HAI
نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت…
نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اجازت ہےبہت آسان ہے کہنا، مجھے تم سے محبت ہےمجھے اُس کی، اُسے اُس کی، اُسے اُس کی ضرورت ہےسوائے اِس مصیبت…
خواب دکھلا کے نکل جاتے ہیں تعبیروں سےہم بندھے رہتے ہیں خود ساختہ زنجیروں سےغور کرنے پہ بھی اب یاد نہیں آتا ہےپوچھنا پڑتا ہے، میں کون ہوں، تصویروں سےیوں…
دو گھڑی مانگی جہاں جینے کی فرصت ہم نےزندگی کو یہ لگا ، کی ہے شکایت ہم نےجس سے لڑتے ہیں اسے آپ منا لیتے ہیںخوب بدلی ہے ترے بعد…
نہ جانے کتنے ٹکڑوں میں بٹا ہوںمیں اپنے ہاتھ سے خود گر پڑا ہوںگھٹن ، وحشت ہی باقی رہ گئی ہےمیں کب کا خود سے ہجرت کر چکا ہوںروایت سے…
رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھیسمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد…
سرِ بازار سجاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوگر قلم بیچ کے کھاتے ہو تو کیوں لکھتے ہوجھوٹ کے پاؤں بناتے ہو تو کیوں لکھتے ہوآنکھ دیکھا نہ دکھاتے ہو تو…
بسا تو لیتے نیا دل میں ہم مکیں لیکنملا نہ آپ سے بڑھ کر کوئی حسیں لیکنکسی کے بعد بظاہر تو کچھ نہیں بدلاہمارے پاؤں تلے اب نہیں زمیں لیکنجہانِ…
زندگی کی چاہت میں زندگی گنوائی ہےعارضی محبت تھی مستقل نبھائی ہےسوکھ کر ہرے پتے شاخ سے گریں گے پھرڈوبتا ہے دل میرا جب بہار آئی ہےمختصر کہانی کچھ یوں…
کیا لگے آنکھ کہ پھر دل میں سمایا کوئیرات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئیفکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کرلطف یہ ہے کہ ہمیں…