Home » Archives for Admin » Page 60
عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ
ماہتاب آفتاب ہیں ہم لوگ
گرچہ اہل شراب ہیں ہم لوگ
یہ نہ سمجھو خراب ہیں ہم لوگ
شام سے آ گئے جو پینے پر
صبح تک آفتاب ہیں ہم لوگ
ہم کو دعوائے عشق بازی ہے
مستحق عذاب ہیں ہم لوگ
ناز کرتی ہے خانہ ویرانی
ایسے خانہ خراب ہیں ہم لوگ
ہم نہیں جانتے خزاں کیا ہے
کشتگان شباب ہیں ہم لوگ
تو ہمارا جواب ہے تنہا
اور تیرا جواب ہیں ہم لوگ
تو ہے دریائے حسن و محبوبی
شکل موج و حباب ہیں ہم لوگ
گو سراپا حجاب ہیں پھر بھی
تیرے رخ کی نقاب ہیں ہم لوگ
خوب ہم جانتے ہیں اپنی قدر
تیرے نا کامیاب ہیں ہم لوگ
ہم سے غفلت نہ ہو تو پھر کیا ہو
رہرو ملک خواب ہیں ہم لوگ
جانتا بھی ہے اس کو تو واعظ
جس کے مست و خراب ہیں ہم لوگ
ہم پہ نازل ہوا صحیفۂ عشق
صاحبان کتاب ہیں ہم لوگ
ہر حقیقت سے جو گزر جائیں
وہ صداقت مآب ہیں ہم لوگ
جب ملی آنکھ ہوش کھو بیٹھے
کتنے حاضر جواب ہیں ہم لوگ
جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
آفت کے وقت وہ بھی ، تماشائیوں میں تھا
اس کا علاج ، کوئی مسیحا نہ کر سکا
جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا
کچھ وضع احتیاط سے ، بانوؔ تھے ہم بھی دور
کچھ دوستوں کا ہاتھ بھی رسوائیوں میں تھا
یہ لازمی نہیں بانہوں کے درمیاں بھی رہے
مِری دُعا ہے کہ تُو خوش رہے جہاں بھی رہے
یہی بہت ہے کہ نظروں کے سامنے ہے وہ شخص
کہاں لکھا ہے کہ وہ مجھ پہ مہرباں بھی رہے
تُو جاتے جاتے مجھے ایسا زخم دیتا جا
کہ درد بھی رہے تاعُمر اور نشاں بھی رہے
نگاہِ یار نے کل یُوں سنبھل کے دیکھا مجھے
کہ تذکرہ بھی نہ ہو اور داستاں بھی رہے
نبھا رہا ہے تعلق وہ اس طرح فارس
کہ دوستی بھی لگے، عشق کا گماں بھی رہے
کیا لگے آنکھ کہ پھر دل میں سمایا کوئی
رات بھر پھرتا ہے اس شہر میں سایا کوئی
فکر یہ تھی کہ شبِ ہجر کٹے گی کیوں کر
لطف یہ ہے کہ ہمیں یاد نہ آیا کوئی
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چپ چاپ
رنج یہ ہے کہ تماشا نہ دکھایا کوئی
شہر میں ہمدمِ دیرینہ بہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مرے کام نہ آیا کوئی
Qafiley daldalon mein ja thehrey,
Rehnuma phir bhi rehnuma thehrey…
قافلے دلدلوں میں جا ٹہرے
رہنما پھر بھی رہنما ٹہرے
مطلوب ہمیشہ ساکت ہوتا ہے
ہمیشہ طالب ہی اس کے گرد گھومتے ہیں ۔
بڑا ناز تھا عدم ، اُن کی چاہت کا
اب کہاں چھپائیں ، ندامتیں اپنی
Wo jo khawab they merey zehn mein,
Na mein keh saka,na likh saka,
Key ziban mili,to katti hui,
key qalam mila to bika huya…
وہ جو خواب تھے میرے ذہن میں
نہ میں کھ سکا نہ لکھ سکا
کہ زبان ملی تو کٹی ہوئی
کہ قلم ملا تو بکا ہوا
Ab to har haath ka pathar humen phchanta hai,
Umar guzri hai,tere shehir aate jaate…
ابّ تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمر گزری ہے تیرے شہر اتے جاتے
Tum sey pehley wo jo aik shaks yahan takht nasheen tha,
Uss ko apney khuda honey pey itna hi yaqeen tha…
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا