Home » Archives for Admin » Page 51
لے گیا روح ، بدن چھوڑ گیاخواب آنکھوں میں کفن چھوڑ گیاہم کو مشکل میں مگن چھوڑ گیادل بھی اب تیری لگن چھوڑ گیادوست آیا تھا تُو تو میرے لئےتُو تو اپنی بھی تھکن چھوڑ گیاپہلے مہکا کوئی خوشبو کی طرحپھر وہ سانسوں میں گھٹن چھوڑ گیاہم پرندوں پہ تھی ہجرت لازمجب شجر ہی وہ چمن چھوڑ گیاپھر وفا کا سکھا کے ہم کو چلنخود وہ کم ظرف یہ فن چھوڑ گیا
عمر بھر رسمِ پیش و پس میں رہےکیا عجب پھر کہ خار و خس میں رہےآپ کے غم کی دسترس میں رہےاس برس بھی اُسی برس میں رہےبے بسی اور کس کو کہتے ہیںجو نہیں ہے، اسی کے بس میں رہےتجھ سے ملنا تو خیر خواب ہی تھاخود سے ملنے کی ہم ہوس میں رہےصید ہوتے تو کوئی بات بھی تھیہو کے صیاد ہم قفس میں رہے
دور حدِ نظر سے آگے کہیں
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
اب بھی سورج کی ہے وہی عادت
گھر کے آنگن کو وہ جگاتا ہے
مرمریں شوخ سی حسیں کرنیں
چہرے سب چوم کر اٹھاتی ہیں
وہاں صبحیں بڑی توانا ہیں
اور سب دن بھی خوب دانا ہیں
منہ اندھیرے سفر کو جاتے ہیں
روز پھر گھر میں شام ہوتی ہے
وہی برگد تلے کی ہیں شامیں
ایک حقہ تو ہیں کئی سامع
اب بھی فکریں گلی محلے کی
باتوں باتوں میں ختم ہوتی ہیں
وہی بچوں کا ہے حسیں بچپن
جگنو, تتلی کی ہے وہی ان بن
وہی جھریوں سی پیاری نانی ہے
وہی پریوں کى اک کہانی ہے
سبھی موسم وہاں نشیلے ہیں
وہی قوسِ قزح کے جھولے ہیں
وہاں بارش کی مستیاں اب تک
ٹین کی چھت پہ گنگناتی ہیں
ہے سخن باکمال لوگوں کا
میٹھا پن لازوال لہجوں کا
سچ ہے جذبوں کی روح میں شامل
واں محبت نہ آزماتی ہے
وہاں باقی ہے دوستی کا مان
اور رشتوں میں جان باقی ہے
اب بھی جنت ہے ماں کے قدموں میں
اب بھی ماں لوریاں سناتی ہے
خوشبویں مٹیوں میں زندہ ہیں
عکس بھی پانیوں میں ہیں باقی
اب بھی تاروں کے سنگ راتوں کو
چاندنی محفلیں سجاتی ہے
اب بھی راتوں کو چاند کی سکھیاں
اپنے چندا سے ملنے جاتی ہیں
اور کھڑے دور ایک سائے کو
اپنی سب دھڑکنیں سناتی ہیں
اب تلک امن فاصلوں میں ہے
جشن بھرپور قافلوں میں ہے
گھر کو سب لوٹتے مسافر ہیں
ان کی یادیں نہیں ستاتی ہیں
چلو ہم بھی وہیں پہ چلتے ہیں
دل جہاں آج بھی دھڑکتے ہیں
جہاں اب تک یہ وقت ساکن ہے
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
دور حدِ نظر سے آگے کہیں
زندگی اب بھی مسکراتی ہے
مرے حصے میں کم کم آ رہا ہے
کہاں تو یار بٹتا جا رہا ہے
میسر چودھویں کا چاند بھی ہے
اماوس کا مزا بھی آ رہا ہے
ہمیں اس پھول سے یہ مسئلہ ہے
کہ خوشبو چار سو پھیلا رہا ہے
بچھڑنے تک یقیں تھا پھر یہ خطرہ
ٹلے گا جس طرح ٹلتا رہا ہے
نہ خود کو کوس تو اپنے کئے پر
ہمارے ساتھ یوں ہوتا رہا ہے
جہاں تو تھا وہاں کوئی رہے کیوں
ہمارا خود سے یہ جھگڑا رہا ہے
جدائی نے بجھا ڈالا ہے اس کو
ترے پہلو میں جو جلتا رہا ہے
آزمانے کی چیز تھا ہی نہیںدل لگانے کی چیز تھا ہی نہیںکاش بر وقت ہم سمجھ پاتےتو گنوانے کی چیز تھا ہی نہیںہو کے ناراض تجھ سے یہ جانامیں منانے کی چیز تھا ہی نہیںجی جلا کر خبر یہ ہوتی ہےجی جلانے کی چیز تھا ہی نہیںمتفق ہوں میں اس زمانے سےمیں زمانے کی چیز تھا ہی نہیںاس کی بخشش ہے ہم فقیروں پرغم کمانے کی چیز تھا ہی نہیںمجھ کو بھولے ہوئے بھی مانتے ہیںمیں بھلانے کی چیز تھا ہی نہیں
تلخ لہجہ اورتوجہ کی کمی سے مر بھی جاتے ہیں
پُھول، پودے اور یہ انسان وغیرہ
وہ تو صدیوں کا سفر کر کے یہاں پہنچا تھا
تو نے منہ پھیر کے جس شخص کو دیکھا بھی نہیں
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئےگی
یہ بھی ممکن ھے کہ زاھد، میری خاموشی
تیری برسوں کی عبادت سے بھی افضل نکلے
وہ تو باتیں نہیں سمجھ پاتا
دکھ تو پھر بے زبان ہوتے ہیں