Skip to content

Month: April 2026

mohabbat ab nahin hogi

mohabbat ab nahin hogi…

ستارے جو دمکتے ہیں
کسی کی چشمے حیراں میں
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں
جمال ا ابرو باراں میں
یہ نہ آباد وقتوں میں
دل ناشاد میں ہوگی
محبت اب نہیں ہوگی
یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
گزر جایں گے جب یہ دن
یہ ان کی یاد میں ہوگی

اُلجھن کا عِلاج آہ کوئی کام نہ آیا !
جی کھول کے رویا بھی تو آرام نہ آیا
دل سینے میں جب تک رہا آرام نہ آیا
کام آئے گا کِس کے جو مِرے کام نہ آیا
کام اُس کے نہ کاش آئے وہ مغرور بھی یونہی
جیسے دلِ آوارہ مِرے کام نہ آیا
یہ کہہ کے وہ سرہانے سے بیمار کے اُٹّھے
صد شکر، کہ مجھ پر کوئی الزام نہ آیا
بجلی سی کوئی شے مِرے سینہ میں کبھی تھی
سوچا تو بہت، یاد مگر نام نہ آیا
تا حشر نہ بُھولے گا عزیز اپنی شبِ ہجر
کیا رات تھی وہ رات، کہ آرام نہ آیا
عزیز لکھنوی

Meri misaal dhuwan hai bujhey charaghon ka

Meri misaal dhuwan hai bujhey charaghon ka,

Jab apna sog manata hon, raqs karta hon…

میری مثال دھواں ہے بجھے چراغوں کا

جب اپنا سوگ مناتا ہوں، رقص کرتا ہوں

Jab dheme dheme hansti ho

jab dheme dheme hansti ho…

جب دہمے دہمے ہنستی ہو
اس بارش جیسی لگتی ہو
تھوڑی دل کی کہتی ہو
زیادہ دل میں رکھتی ہو
کیوں جاؤں رنگریز کے پاس
تم تو سیاہ میں بھی ججچتی ہو
کرنے دو انہیں سنگھار
تم سادہ بھی سجتی ہو

Jitna tum dil mein

jitna tum dil mein liye phirte ho

utna dard to roz mere sar mein hota hai


جتنا تم دل میں لئے پھرتے ہو

اتنا درد تو روز میرے سر میں ہوتا ہے


Dobna hi parta hai ubharne se pehle

Dobna hi parta hai ubharne se pehle

Ghroob hone ka matlab zawal nahi hota…


ڈوبنا ہی پڑتا ہے ابھرنے سے پہلے

غروب ہونے کا مطلب زوال نہیں ہوتا


Dobna hi parta hai ubharne se pehle

Raat ho, chand ho, shanasa ho

raat ho, chand ho, shanasa ho…

رات ہو ، چاند ہو ،شناسا ہو
کیوں نہ رگ رگ میں پھر نشہ سا ہو
میں نے ایک عمر خرچ کی ہے تم پر
تم میرا ، قیمتی اثاثہ ہو
ایک تو خوف بھی ہو دنیا کا
اور محبت بھی بے تحاشا ہو

Itna metha tha wo gusey bhara lehja mat poch

Itna metha tha wo gusey bhara lehja mat poch,

Us ney jis jis ko bhi janey ka kaha beth gaya…

اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ

اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا

Ikhlaq na barteing


اخلاق نہ برتیں گے مدارا نہ کریں گے 

اب ہم بھی کسی شخص کی پرواہ نہ کریں گے  

کچھ لوگ کئی لفظ غلط بول رہے ہیں 

اصلاح مگر ہم بھی اب اصلا نہ کریں گے  

کم گوئی کہ اک وصف حماقت ہے ہر طور 

کم گوئی کو اپنائیں گے چہکا نہ کریں گے  

اب سہل پسندی کو بنائیں گے وتیرہ 

تا دیر کسی باب میں سوچا نہ کریں گے  

غصہ بھی ہے تہذیب تعلق کا طلب گار 

ہم چپ ہیں، بھرے بیٹھے ہیں، غصہ نہ کریں گے  

کل رات بہت غور کیا ہے سو ہم اے جون 

طے کر کے اٹھے ہیں کہ تمنا نہ کریں گے  

جون ایلیا


Ankhon mein paani liye mujhey ghoorta hi raha

Ankhon mein paani liye mujhey ghoorta hi raha,

Wo aaieney mein khara shakhs pareshan bhut tha…

آنکھوں میں پانی لیے مجھے گھورتا ہی رہا

وہ آئینے میں کھڑا شخص پریشان بہت تھا