دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشنمیری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیںرقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیںکچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغوہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیںاور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہودل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں

